حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 189
: ڈر رہے ہیں بایں خیال کہ ہمارے اعمال قابلِ قبول ہوئے ہیں یا نہیں۔عائشہ صدیقہؓ نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ اگر آدمی زنا کرے۔چوری کرے۔پھر بھی خوف کرے۔تو نجات پائے گا؟ فرمایا نہیں! اے بنتِ صدیق ! بلکہ وہ نیک کام کرے اور ساتھ ہی ڈرے کہ قبول بھی ہوا ہے یا نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۰) : نیکی کرتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) مولیٰ کریم۔رحمان و رحیم مولیٰ۔ان آیات میں انسان کو ان راہوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اس کو ہر ایک قسم کے سُکھوں کی طرف لے جاتے ہیں اور اپنے ہم چشموں اور ہم عصروں میں معزّز و موقّر بنا دیتے ہیں۔انسان فطرتی طور پر چاہتا ہے کہ ہر ایک قسم کے سُکھوں اور آراموں اور بھلی باتوں کو حاصل کرے اور پھر اُن میںسب سے بڑھ کر رہنا چاہتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کے متعلقین خوش و خور سند ہیں اور لوگوں کو بھلائی کی طرف متوجہ پاتا ہے۔اس کے دل میں یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ فلاں بھلائی میں سعادت مند قدم رکھا ہے اور فلاں شخص نے بھی رکھا ہے۔پس میں سب سے بڑھ کر سبقت لے جاؤں۔غرض عام طور پر انسان فطرۃً کمپی ٹیشن ۱؎ میں لگا رہتا ہے اور ساتھ والوں سے سربرآوردہ ہونے کا آرزو مند ہوتا ہے۔بچّے چاہتے ہیں کہ کھیل میں دوسری پارٹی سے بڑھ کر رہیں اور جیت جاویں۔عورتیں کھانے۔پہننے۔لباس و زیوارات میں چاہتی ہیں کہ اپنی ہم نشینوں سے بڑھ کر رہیں۔پس یہ خواہش اور آرزو جو فطرتی طور پر انسان کے دل میں پائی جاتی ہے۔اُس کے پورا کرنے کے اسباب اور وسائل قرآن کریم میں