حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 185 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 185

کس قدر حرف آتا ہے۔قطع نظر اس کے ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں ہوتا کہ قرآنِ کریم کی پاک تعلیم پر اس قسم کے اعتراض سے کیا حرف آتا ہے۔اور کیونکر انبیاء ورسل کے پاک سلسلہ پر سے ایمان اُٹھ جاتا ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ کوئی ہمیں بتائے کہ آدمؑ سے لے کر نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم تک اور آپؐ سے لے کر اس وقت تک کیا کوئی ایسا مفتری گزرا ہے۔جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ وہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے اور وہ کلام جس کی بابت اس نے دعویٰ کیا ہوکہ خدا کا کلام ہے۔اس نے شائع کیا ہو اور پھر اسے مہلت ملی ہو! قرآن شریف میں ایسے مفتری کا تذکرہ یا نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاک اقوال میں پاک لوگوں کے بیان میں اگر ہوا ہے تو دکھاؤ کہ اس نے تَقَوّل علیاﷲ کیا ہو اور بچ گیا ہو! میں دعوے سے کہتا ہوں کہ وہ ایک مفتری بھی پیش نہ کر سکیں گے ۱؎ …میں جب اپنے زمانہ کے راست باز کے مخالفوں اور حضرت نوح علیہ السلام کے مخالفوں کے حالات پر غور کرتا ہوں تو مجھے اِس زمانہ کے مخالفوں پر بہت رحم آتا ہے۔کہ یہ اُن سے بھی جلد بازی اور شتاب کاری میں آگے بڑھے ہوئے ہیں۔وہ نوح علیہ السلام کی تبلیغ اور دعوت کو سُن کر اعتراض تو کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں  چندے اور انتظار کر لو۔مفتری ہلاک ہو جاتا ہے۔اس کا جھوٹ خود اس کا فیصلہ کر دے گا۔مگر یہ شتاب کار نادان اتنا بھی نہیں کہہ سکے۔العجب!ثم العجب!! ۲۷،۲۸۔ (الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ۶۔۷) ۱؎ (الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۵۔۶)