حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 180

اور لوگ خوش ہوتے ہیں۔مگر بدکار انسان جس طرح اپنی بدیوں۔جہالتوں۔شہوات و جذبات کا اسیر و پابند ہوتا ہے۔دوسروں کو بھی اسی پر قیاس کرتا ہے۔اور ایک نامرادی پر دوسری نامرادی لاتا ہے۔اور کہتے ہیں کہ ( المؤمنون:۲۵) یہ چاہتے ہیں کہ تم پر فضیلت حاصل کر لیں۔دکان چل جاوے۔اپنے اور اپنی اولاد کیلئے کچھ جمع کر لیں۔یہ ان کی اپنی ہی ہوائے نفس ہوتی ہے۔جس میں دوسروں کو اسی طرح ملوّث اور ناپاک خیال کرتے ہیں جیسے خود ہوتے ہیں۔یہ خطرناک مرض ہے جس کو شریعت میں سُوئِ ظن کہتے ہیں۔بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں اور ہزاروں قسم کی نکتہ چینیوں سے دوسروں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔اور اسے حقیر بنانے کی فکر میں ہیں۔مگر یاد رکھو۔( النحل :۱۲۷)عقاب کے معنے جو پیچھے آتا ہے۔انسان جو بلاوجہ دوسرے کو بدنام کرتا ہے اور سُوئِ ظن سے کام لے کر اس کی تحقیر کرتا ہے۔اگر وہ شخص اس بدی میں مبتلا نہیں جس بدی کا سُوئِ ظن والے نے اسے مُتّہم ٹھہرایا ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ سُوئِ ظن کرنے والا ہرگز نہیں مرے گاجب تک خود اس بدی میں گرفتار نہ ہولے۔پھر بتاؤ کہ سُوئِ ظن سے کوئی کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے مت سمجھو کہ نمازیں پڑھتے ہو۔عجیب عجیب خوابیں تم کو آتی ہیں یا تمہیں الہام ہوتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ سُوئِ ظن کا مرض تمہارے ساتھ ہے تو یہ آیات تم پر حجت ہو کر تمہارے ابتلاء کا موجب ہیں اس لئے ہر وقت ڈرتے رہو اور اپنے اندر کا محاسبہ کر کے استغفار اور حفاظتِ الہٰی طلب کرو۔میں پھر کہتا ہوں کہ آیات اﷲ جن کے باعث کسی کو رفعت شان کا مرتبہ عطا ہوتا ہے ان پر تمہیں اطلاع نہیں وہ الگ مرتبہ رکھتی ہیں مگر وہ چیزیں جن سے خودرائی۔خودپسندی۔خود غرضی۔تحقیر۔بدظنی اور خطرناک بدظنی پیدا ہوتی ہے وہ انسان کو ہلاک کرنے والی ہے۔ایک ایسے انسان کا قصّہ قرآن میں ہے۔جس نے آیات اﷲ دیکھے مگر اس کی نسبت ارشاد ہوتا ہے (الاعراف:۱۷۷) اور سرورِ کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اِیَّا کُمْ وَ الظَّنَّ وَ اِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْث بدگمانیوں سے اپنے آپ کو بچاؤ ورنہ نہات ہی خطرناک جھوٹ میں مبتلا ہو کر قربِ الہٰی سے محروم ہو جاؤ گے۔یاد رکھو حُسنِ ظن والے کو کبھی نقصان نہیں پہنچتا۔مگر بدظنی کرنے والا ہمیشہ خسارہ میں رہتا ہے غرض پہلا مرحلہ جو انبیاء علیہم السلام کے مخالفوں اور ان کی ذرّیت اور نوابوں کو پیش آیا۔وہ یہ تھا کہ اپنے آپ پر قیاس کیا۔پھر یہ بدظنی کی کہ  ( المؤمنون:۲۵) تم پر فضیلت چاہتا ہے۔پس اس پہلی اینٹ پر جوٹیڑھی رکھی جاتی ہے۔جو دیوار اس پر بنائی جاوے خواہ وہ کتنی ہی لمبی