حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 179 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 179

ہمّت بلند۔شجاعت استقلال۔عفّت۔حِلم۔قناعت۔صبر کا۔اور یہ شروع ہوتا ہے حُسنِ ظن باﷲ۔تواضع اور صادقوں کی محبت سے۔اور ان کے پاس بیٹھنے۔ان کی اطاعت سے۔جبکہ تقویٰ کی ضرورت ہے۔اور یہ حاصل ہوتا ہے صادقوں کی صحبت اور محبت سے اور حُسن ظن باﷲ سے۔تو راستبازوں اور ماموروں کا دنیا میں آنا ضرور ہوا۔اور ان کی تعلیم اور بعثت کا منشاء اور مدّعا یہی ہوا۔اور یہی تعلیم لے کر نوحؑ آئے تھے۔اور انہوں نے قوم کو یہی فرمایا مگر ناعاقبت اندیش جلد باز۔حیلہ ساز مخالفوں نے اس کے جواب میں کیا کہا۔ٖ۔نابکار اعدائے ملّت ائمۃ الکفر نے کہا تو یہ کہا ٖکہ یہ شخص جو خدا کی طرف سے مامور ہونے کا مدّعی ہے جو کہتا ہے کہ تمہیں ظلمت سے نکالنے کیلئے میں بھیجا گیا ہوں۔اس میں کوئی انوکھی اور نرالی بات تو ہے نہیں۔ہمارے تمہارے جیسا آدمی ہی تو ہے۔پس یاد رکھو سب سے پہلا اعتراض جو کسی مامور من اﷲ۔راست باز۔صادق انبیاء و رسل اور ان کے سچّے جا نشین خلفاء پر کیا جاتا ہے۔وہ یہی ہوتا ہے کہ اس کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔اور اپنی ہی ذات پر اس کو قیاس کر لیا جاتا ہے۔ایک طرف وہ بلند اور عظیم الشان دعاوی کو سُنتے ہیں کہ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں۔خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔اس کے ملائکہ مجھ پر اترتے ہیں۔دوسری طرف وہ دیکھتے ہیں کہ وہی ہاتھ۔پاؤں۔ناک۔کان۔آنکھ اعضاء رکھتا ہے۔بشری حوائج اور ضرورتوں کا اسی طرح محتاج ہے۔جس طرح ہم ہیں۔اس لئے وہ اپنے ابنائے جنس میں بیٹھ کر یہی کہتے ہیں، (المؤمنون : ۳۴)پس اپنے جیسے انسان کی اطاعت و فرماں برداری کر کے خسارہ اٹھاؤ گے۔غرض اس قسم کے الفاظ اور قیاسات سے وہ مامور من اﷲ کی تحقیر کرتے ہیں اور جو کچھ اپنے اندر رکھتے ہیں۔وہی کہتے ہیں۔مگر انبیاء۔مرسل۔مامور اور اصحابِ شریعت کے سچے خلفاء اور جانشین انہیں کیا جواب دیتے ہیں۔اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمّ اور کہتے ہیں۔(ابراہیم:۱۲) بے شک ہم تمہاری طرح بشر ہیں۔تمہاری طرح کھاتے پیتے اور حوائجِ بشری کے محتاج ہیں۔مگر یہ خدا کا احسان ہوا ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے مکالمات کا شرف بخشاہے، اس نے ہمیں منتخب کیا ہے اور ہم میں ایک جذبِ مقناطیس رکھا ہے۔جس سے دوسرے کھچے چلے آتے ہیں۔خدا کی توحید کا پانی جو مایۂ حیاتِ ابدی ہے وہ ہمارے ہاں سے ملتا ہے