حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 165
حل کیا ہے۔گویا سات ۷ سو برس قبل عقلمندپادری صاحب کے مجہول اعتراض کا جواب دے دیا ہے ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکارند تا تو نانے بکف آری و بغفلت نخواری ہمہ از بہرِ تو سرگشتۂ و فرماں بردار شرط انصاف نباشد کہ تو فرماں نبری (فصل الخطاب طبع دوم صفحہ۱۶۳۔۱۶۴) : اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخّر کر دیں۔بلکہ دوسرے مقام پر فرمایا۔کہ آسمان کی چیزیں اور شمس و قمر بھی تمہارے لئے مسخّر کر دیا مگر افسوس کہ مسلمانوں نے بہت کم ان آیات سے نفع اٹھایا ہے اور عملیات کے ذریعے تسخیر کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو بالکل لغو اور بے ہودہ بات ہے۔افسوس کہ جن کی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ کل کی فکر آج نہ کرو ‘‘ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔وہ تو سارے جہان کی دولت سمیٹ رہے ہیں۔اور جن کیلئے سب کچھ مسخّر کر دیا گیا ہے۔وہ بھوکوں مرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے خدا کی کتاب کو چھوڑ دیا اور سُست و کاہل الوجود ہو گئے۔اِنَّمَا اَشْکُوْ ا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلیَ اﷲِ! (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۷) ۶۸۔ : مَنْسَکْعربی بولی میں جگہ کو کہتے ہیں۔کیسی جگہ؟ جہاں جانے کی انسان کو عادت و اُلفت ہو۔اس واسطے مسجد و ہر دکان کو جو بازار میں ہو۔وہ تکیوں۔حرفہ و پیشہ کی دوکانوں بلکہ کنجروں کے بازار کو بھی مَنْسَکْ کہتے ہیں۔جنابِ الہٰی فرماتے ہیں۔مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہیں۔اس طرح کے مقامات ہر قوم نے اﷲ کے نام کیلئے بنائے ہوئے ہیں۔۱۔گنگاجی کے کنارے پر ایک مقام ہے۔ہردوارہ یعنی ہری کا گھر۔اﷲ کا گھر۔۲۔بیتِ اِیل (بیت اﷲ ) یوروشلم میں ہے۔۳۔تبّت میں لاسہؔ۔جو آلہ سا کے معنوںمیں ہے۔پس ہمارے مکّہ کے بیت اﷲ پر اعتراض