حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 164 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 164

کے حکم سے چلتی ہیں۔تسخیر مفت میں بلا مزدوری کام میں لگا دینے کو کہتے ہیں۔بے شک کشتیاں، جہاز، دریا، سمندر، سورج، چاند، ستارے، رات دن، چارپائے، مویشی باری تعالیٰ جلّ شانہٗ نے محض اپنے لطف و کرم سے مفت ہمارے کام میں لگا رکھے ہیں۔بایںمعنی کہ ان کی خِلقت اور فِطْرَتْ ایسی بنائی ہے کہ بلا اُجرت ہمارے منافع اور مصالحِ دنیوی کے اہتمام و انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔بلکہ حقیقۃً ہماری زندگی و معاش انہیں اشیاء اور قوائے طبعی کے وجود پر موقوف ہے۔چونکہ ان بڑے بڑے قوائے طبعی مثلاً سمندر۔ہوا۔سورج چاند ستارگان رات دن وغیرہ پر مِنْ حَیْثُ الْخَلَقہم قدرت نہیں رکھتے اور نہ جبراً و قہراً ان سے کام لے سکتے ہیں۔اس لئے اﷲ تعالیٰ اپنا فضل و امتنان و احسان جتا کر ہم سے اس مہربانی کی شکرگزاری لینے کے لئے ان اشیاء کا اور اُن سے ہمیں منافع پہنچنے کا ذکر فرماتا ہے۔کہ دیکھو ایسی ایسی بڑی زبردست چیزیں جن پر تمہارے دستِ قدرت کو رسائی ممکن نہ تھی۔مفت میں مَیں نے تمہارے کام میں لگا دی ہیں۔اُس کے یعنی خدا کے ہمارے کام میں ان اشیاء کو لگا دینے یا ہمارے ان کو کام میں لانے کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے تمام منافع اور مصالح کا مدار ان ہی اشیاء کے وجود پر ہے اور یہ سب تار و پودِ ہستی اور ہنگامۂ با آب و تاب انہیں اشیاء کی مدد اور ذریعے سے نبھتا اور چل رہا ہے۔جو لوگ قانونِ قدرت میں غور و فکر کرتے ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ کس طرح پر ہم بعض قوائے قدرت سے قدرتی طور پر اور بعض اشیاء کے خود استعمال صحیح سے متمتّع ہو سکتے ہیں۔اور ہو رہے ہیں۔اہلِ یورپ نے انہیں قوائے قدرت کی طرف توجہ کرنے اور ان کے استعمالِ صحیح (تسخیر) سے مثلاً ایک سٹیم (بخار) ہی کی تسخیر اور کام میں لانے سے کیسے کیسے منافع اٹھائے ہیں۔کیسے بیش بہا انجن ایجاد کئے ہیں۔کہ تجارت اور تموّل میں اہلِ عالم پر سبقت لے گئے۔یہی عملِ تسخیر ہے جسے قادرِ مطلق رحیم خدا نے فطرتاًبتفاوت ہر انسان میں و دیعت رکھا ہے۔مالا مال اور خوشحال وہ لوگ ہوئے۔جنہوں نے اس قدرتی عطیّے اور فیض وَھْبِیْ سے کام لیا۔یہ وہ عملِ تسخیر نہیں ہے جسے عوام کالا نعام ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔اور شب و روز فضول جہدو مجاہدے میں سرگردان اور منہمک رہتے ہیں۔کیا کوئی شخص کسی قسم کا کلمہ و کلام پڑھ کر سورج اور چاند کو مسخّر کر سکتا ہے یا ان کی معمولی قدرتی رفتار اور حرکات میں فرق ڈال سکتا ہے۔نہیں نہیں یہ وہی قدرتی تسخیر ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے۔اور اُسی ہی کو باری تعالیٰ امتناناًاور احساناً یاد دلاتا ہے۔سعدیؒ نے اس موقع پر کیا خوب کہاہے اور کیا خوب اس تسخیر و تسخّر کا مطلب