حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 161
: نبی کی خواہش یہی ہے کہ توحید پھیلے اور کلمۃ اﷲ علیا ہو۔کوئی شریر اٹھتا ہے تو اس کی خواہشوں میں روک ڈالتا اور چاہتا ہے کہ یہ نبی کامیاب نہ ہو۔: اﷲ تعالیٰ اس شریر کی تمام شرارتوں کو مٹاتا ہے یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی نیک اپنی نیکی پھیلانا چاہتا ہے۔تو کوئی نہ کوئی شریر اس کی مخالفت کرتا اور آخر مُنہ کی کھاتا ہے۔اسی گاؤں میں ایک راست باز آیا۔اس نے حق پھیلانا چاہا۔مخالفوں نے روک ڈالی۔مگر وہ سب روکیں اُٹھ گئیں۔چنانچہ اس کے ثبوت میںتم تین سو سے زیادہ احمدی بیٹھے ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۶) ۵۴۔ لِیَجْعَلَ: شیطان کی شرارتیں فتنہ ہوتی ہیں۔مگر انہی کیلئے جن کے دلوں میں مرض ہے گویا اس ذریعہ سے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ ظاہر ہو جاتا ہے۔سورۃ جنّ میں فرمایا۔(الجنّ:۲۸) جب اﷲ اپنے غیبِ خاص کو رسولوں پر نازل فرماتا ہے تو اس کے رسول کے آگے پیچھے چوکی پہرہ جما دیتا ہے۔جب تک وہ ساری بات اﷲ کی مخلوق میں پہنچالے۔پس یہ ممکن نہیں کہ کوئی شیطان ایسے موقع پر در اندازی کر سکے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۶) ۵۶،۵۷۔