حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 13
اس کے ٹالنے والا کوئی اس کے سوا نہیں۔اور خدا تعالیٰ نے جو سنّت قائم کر دی ہے اس کے خلاف ہرگز نہیں ہو سکتا۔مثلاً یہ قانونِ الہٰی ہے کہ صادق کامیاب اور بامراد ہوتا ہے۔پس اس میں تبدیلی نہیں۔اور ایسا کبھی نہ ہو گاکہ کاذب کے مقابلہ میں صادق نامراد اور ناکام رہے۔باقی رہا حروف میں تغیّر و تبدّل۔یہ تو ظاہر ہے کہ قاری کو بھی سہو ہو جاتا ہے۔کاتب بھی غلطیاں کرتا ہے۔بعض بائیبلوںاور قرآن شریفوں میں لفظی غلطیاں چھاپے کی نکالنے والوں کو انعام دیا جاتا ہے۔فی زمانہ خود عیسائیوں کے درمیان رومن کیتھولک فرقہ کی بائیبل میں اور پروٹسٹنٹ فرقہ کی بائیبل میں بہت جگہ اختلاف لفظی ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک غلط ہے۔پس اس آیت سے عیسائیوں کا استدلال ہرگز صحیح نہیں ہے۔بلکہ اس اعتراض کی سزا ہے کہ اصل کلام ہی دنیا سے مفقود ہو گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۷) : یہاں سے ہجرت کے متعلق احکام ہیں کہ اس وقت آپ کو کیا کرنا چاہیئے۔اس آیت شریفہ سے صدیقِ اکبرؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرتؐنے ان کو اپنے ساتھ رکھا۔معلوم ہوا کہ وہ غافل قلب والے نہ تھے۔وَ اِلَّا ان کو ساتھ نہ رکھتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۷) دُکھوں اور مصیبتوں کے وقت تین علاج حضرت حق سبحانہٗ نے فرمائے ہیں۔۱۔اﷲ کا ذکر کرتے رہنا۔۲۔قرآن شریف اکثر پڑھتے رہنا۔۳۔پاک لوگوں کی صحبت میں رہنا جو مستفاد ہے۔سے۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ غافلوں کی صحبت و تعلق سے کنارہ کشی رہے۔غافل وہ ہے جو یادِ الہٰی نہ کرے اور گری ہوئی خواہشوں کے پیچھے پڑا رہے۔(بدر ۱۷؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۳) ۳۲۔