حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 155
ادھر یورپ و امریکہ میں یونی ٹیرین۔فری ۱؎ تھِنکروں کا سمندر موج مار رہا ہے۔اور کیا خوب ہوا۔حضرت مسیحؑ کی خدائی نیست و نابود ہو رہی ہے… مخلوق اسلام کے مقدّس مذہب میں آ رہی ہے۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۱۴۴۔۱۴۵) جو دنیا میں نیکی ہے۔اس کے ساتھ کچھ مشکلات بھی ہیں اور سُکھ کے ساتھ دُکھ اور دُکھ کے ساتھ سُکھ ہے۔آخرالذّکر کی مثال دردِ زِہ اور پھر فرزند نرینہ کی پیدائش ہے۔صحابہ کرامؓ مکّہ معظمہ میں سخت تکالیف میں مبتلا تھے۔۱۔بعض آدمیوں کے ایک پاؤں کو ایک اونٹ سے اور دوسرا پاؤں دوسرے اونٹ سے باندھ کر مخالف سمتوں میں چلا کر چیرا جاتا۔۲۔بعض عورتوں کی شرمگاہوں میں برچھی ماری ہے اور گلے سے نکالی ہے۔۳۔تین برس بنوہاشم کو غلّہ پہنچانے میں روکیں ڈال دی گئیں۔۴۔بعض صحابہ کو شدّت سے گرم کئے ہوئے پتھروں میں لٹایا جاتا تھا۔مگر وہ لوگ ۱؎ FRE THINKERS بڑے صبر۔استقلال۔اور ہمّت سے ان تمام تکالیف کو برداشت کرتے۔محرّم میں جب امام حسینؓ کی تکالیف کا ذکر کرتے ہیں۔مگر صحابہؓ نے جو جو تکالیف اٹھائی ہیں وہ ان سے بعض اوقات بڑھ کر ہیں۔سو اس صبر کے عوض جہاد کی اجازت دی گئی۔یہ غلط ہے آپؐ کو جتھے کا انتظار تھا۔(النساء:۸۵) کاحکم اور غزوہ حنینؔ میں سب کے بھاگنے پر کھڑا رہنا اس کا شاہد ہے۔پس یہ جھوٹ ہے کہ اسلام بزورِ شمشیر پھیلایا گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۵۔۱۷۶) ۴۱۔