حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 154
۳۹۔ : اﷲتعالیٰ نے ہر چیز کی حد بندی مقرّر کر دی ہے۔جب اس حد سے کوئی چیز بڑھنے لگتی ہے تو اس کو دفع کرنے والی چیز پیدا کر دیتا ہے۔کفر بڑھ گیا ہے اس لئے حضرت محمد رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم اور ان کی جماعت کو پیدا کر دیا۔کیونکہ وہ کفر کیشوں کو پسند نہیں کرتا۔یہ خیال کہ کوئی مہدی ایسا آئے گا جو تمام جہان کو مسلمان بنا لے گا۔ایک لغو خیال ہے۔کیا وہ حضرت محمد رسول اﷲسے بڑھ کر قوّتِ قدسیہ رکھنے والا کوئی ہو گا؟ کیا وہ قرآن شریف سے بڑھ کر کتاب لائے گا؟ اﷲ تعالیٰ ہر چیز کو ایک حد کے اندر رکھنا چاہتا ہے! (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۵) ۴۰۔ اجازت دی گئی اُن لوگوں کو جن سے لڑائی کی گئی اس لئے کہ وہ مظلوم ہیں اور اﷲ انہیں دشمن پر غالب کر دینے پر قادر ہے… اسلام کا خدا تعالیٰ نے دونوں طرح کا غلبہ دکھانا چاہا ہے ایک وقت تھا جب دشمن نے اسلام کے استیئصال کیلئے تلوار اٹھائی۔مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تو اسلام نے مسلمانوں کو بغاوت سے روک دیا کہ غدر نہ کرنا۔اس ملک سے نکل جاؤ۔جہاں تکلیف ہے! اس لئے مکّہ معظّمہ کا ملک چھوڑ دیا گیا۔جب دشمن کو اس پر صبر نہ آیا اور اس نے تعاقب کیا تو آخر اسلام نے تلوار اٹھائی اور کامیاب ہو گیا! پھر اس وقت چودھویں صدی میں صرف حُجج کے اسلحہ سے اسلام سے جنگ شروع ہو گئی اسلام کے باعث کوئی قوم کسی مسلمان پر ہتھیاروں سے اب کام نہیں لیتی۔تو اسلام نے بھی براہینِ نیرّہ اور حُجج ساطعہ اور دلائلِ واضحہ (ترک رشی) سے مقابلہ شروع کیا! بُت پرست قومیں اسلام کے مقابلہ سے ہار کر بُت پرستی کے دعوے سے باز آ رہی ہیں اور بالکل اس مسئلہ میں صلح جُو ہو رہی ہیں۔کیونکہ انڈیا میں کچھ برہموں ہو گئے ہیں اور کچھ آریہ سماج۔