حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 150
۳۸۔ : اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے۔جیسے وہ (جانور) تمہارا فرماں بردار ہے۔ایسے ہی تم میرے مطیع ہو جاؤ۔راضی بقضاء۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۵) ٔ اﷲ تعالیٰ کی کتاب کو غور سے دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو تقوٰی بہت پسند ہے۔اگر انسان اﷲ کے ساتھ سچا معاملہ نہ کرے تو اس کے ظاہری اعمال کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔انسان فطرۃً چاہتا ہے کہ کوئی اس کا پیارا ہو جو ہر صفت سے موصوف ہو۔سو اﷲ سے بڑھ کر ایسا کوئی نہیں ہو سکتا۔یہ پیارے تو آخر جُدا ہوں گے۔ان کا تعلق ایک دن قطع ہونے والا ہے۔مگر اﷲ کا تعلق ابدالآباد تک رہنے والا ہے۔دنیا کی فانی چیزیں محبت کے قابل نہیں کیونکہ یہ سب فنا پذیر ہیں۔کیا دنیا میں کوئی ایسی چیز ہے جو بقاء رکھتی ہے۔ہرگز نہیں پس اس کی رحمت اور اس کے فضل کا سہارا پکڑو۔اور اسی کو اپنا پیارا بناؤ کہ وہ باقی ہے… جو اﷲ کیلئے انشراحِ صدر سے ایسی قربانیاں کرتے ہیں۔اﷲ بھی ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔اس کے بدلے ابراہیمؑ کو اتنی اولاد دی گئی کہ مردم شماریاں ہوتی ہیں۔مگر پھر بھی ابراہیم ؑکی اولاد صحیح تعداد کی دریافت سے مستثنیٰ ہے۔کیا کیا برکتیں اس مسلم پر ہوئیں۔کیا کیا انعامِ الہٰی اس پر ہوئے کہ گننے میں نہیں آ سکتے۔ہماری سرکار خاتم الانبیاء سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بھی اسی ابراہیمؑ کی اولاد سے ہوئے۔پھر اس کے دین کی حفاظت کیلئے خلفاء کا وعدہ کیا۔کہ انہیں طاقتیں بخشے گا اور ان کو مشکلات اور خوفوں میں امن عطا کرے گا۔یہ کہانی کے طور پر نہیں۔یہ زمانہ موجود۔یہ مکان موجود تم موجود۔قادیان کی بستی موجود۔ملک کی حالت موجود ہے کس چیز نے ایسی سردی میں تمہیں دُور دُور سے یہاں اس مسجد میں جمع کر دیا۔