حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 12
: یہ لوگوں کا قول ہے۔سَیَقُوْلُوْنَ پر عطف ہے۔مثال کے واسطے سورۂ لقمان کا دوسرا رکوع دیکھو۔۔(لقمان:۱۴) سے وعظ شروع ہوا۔درمیان میں (لقمان:۱۵) اور دیگر ذکر آ گیا۔پھر (لقمان:۱۷) سے وہی وعظ شروع ہوا۔: تین سو یا نو سو والی باتیں صحیح نہیں۔اﷲ بہتر جانتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۷) ۲۸،۲۹۔ : یہ پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی۔اس آیت پر عیسائی لوگ کہا کرتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کے کلمات میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور قرآن شریف خود اس امر کو تسلیم کرتا ہے تو پھرانجیل اور توریت بھی محرّف مبدّل نہیں ہوئیں۔یہ ایک دھوکہ ہے جو عیسائیوں کو لگا ہے یا وہ دوسروں کو دیتے ہیں۔اس آیت کے معنے تو صرف یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو پیشگوئی کی ہے وہ ضرور پوری ہو گی