حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 138
سُوْرَۃُ الْحَجِّ مَکِّیَّۃٌ ۲۔ انسان کو جب راحت۔آرام۔کامیابی ہو تو خوش ہوتا ہے۔اگر اس خوشی میں اس کی تدبیر کو دخل ہو تو بہت ہی فخور ہو جاتا ہے۔اور دوسرے ناکاموں پر آوازے کستا ہے۔جب ناکامی ہو جائے۔نامرادی یہ دیکھ لے تو اس وقت خدا یاد آتا ہے ( اگر خدا کا قائل ہو) ورنہ کلماتِ کفر زبان سے نکالتا ہے۔کامیابی میں تکبّر۔ناکامی میں تنزّل انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔مثنوی میں ایک حکایت ہے کہ ایک متکبّرا میر کے کانٹا چُبھ گیا۔اس کو نکالنے کیلئے سر نیچا کرنا پڑا تو اُسے کہا گیا یہ ہے تکبّر کی حقیقت کہ ایک کانٹے نے سر جھکا دیا۔: کامیابی میں بھی متّقی ہو۔ناکامی میں بھی۔خوشی میں بھی تقویٰ کی حد بندی کو نگاہ رکھو۔: ایک نہ ایک وقت مصیبت کا آتا ہے۔اس وقت ماں بچّے کو بھُول جاتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۳) اس سورۃ میں تمام قوموں کو آگاہ کرتا ہے۔کہ زلزلۃ الساعۃ آتا ہے۔(جنگ) (تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۸ ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۳۔