حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 11
صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے بھی اپنی ہجرت کے ارادے کو ظاہر کرنا چاہا تھا؟ تب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ انشاء اﷲ تعالیٰ کہہ لو۔اََ: آئندہ حالت موجودہ سے پُر امن ہو گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۷) ایک عیسائی کا اعتراض: ’’ اگر پیغمبر علیہ السلام سچّے ہوتے تو اصحابِ کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی نہ کرتے‘‘ کے جواب میں فرمایا۔نہ قرآن کریم نے اصحابِ کہف کی تعداد بیان فرمائی اور نہ رسولِ کریمؐ نے۔معلوم نہیں ہو سکتا کہ سائل نے غلط بیانی کا اتہام کیونکر لگایا۔حضرت رسالت مآب ؐ نے تعداد کو بتایا ہی نہیں اور اس کا بیان ہی نہیں کیا۔تو غلط بیانی کہاں سے آ گئی؟ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے۔سائل کسی کے دھوکہ میں آ کر یہ سوال کر بیٹھا ہے۔کیونکہ قرآنِ مجید میں جہاں اصحابِ کہف کا قصّہ لکھا ہے۔وہاں تعداد کے متعلق یہ آیت ہے۔ ۔ترجمہ: لوگ کہیں گے تین ہیں چوتھا ان کا کتّا۔اور کہتے ہیں پانچ ہیں چھٹا ان کا کتّا ہے۔بے نشانہ تیر چلاتے ہیں اور کہتے ہیں سات ہیں اور آٹھواں کتّا ہے۔تُو کہہ دے ( اے محمدؐ ) میرا رب ہی اُن کی تعداد جانتا ہے۔اور ان کو تھوڑے ہی جانتے ہیں۔اس آیت شریف سے صاف صاف واضح ہے کہ لوگ ایسا ایسا کہیں گے اور لوگ فلاں فلاں تعداد اصحاب کہف کی بیان کریں گے۔لاکن ان لوگوں کا کہنا ’’ بن نشانہ تیر چلانا ہے ‘‘ اعتبار کے قابل نہیں۔غرض حضرت نبی عربؐ نے کوئی تعداد اصحابِ کہف کی نہیں بتائی۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور انکے جوابات صفحہ ۵۸) ۲۶،۲۷۔