حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 136 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 136

رکھ لیتے ہیں۔جب اس کو فتح کر لیا تو اس سے کم درجے کی ریاستیں خود ہی قابو میں آ جاتی ہیں۔نہروں میں بھی یہی طریق ہے کہ حدب (کمر) کی تلاش رکھتے ہیں۔پھر اس پر قبضہ کر کے اور اسے سیدھا کر کے سیدھی نہر لے جاتے ہیں۔: یہ ان قوموں کے مُورثِ اعلیٰ کا نام ہے۔میرے ایک دوست نے مجھے بتا دیا تھا کہ سب سے پُرانا بُت لنڈن میں یاجوج ماجوج کا ہے۔تورات میں جُوج۔مسک۔ٹابولسک کے سردار کو کہا اور جزائر کے رہنے والے کو (حز قیل باب ۳۸،۳۹) کسی زمانے میں وسط ایشیا میں ان کا زور تھا۔میدوفارس کو بہت دُکھ دیتے تھے۔ان کے روکنے کیلئے ذوالقرنین نے دیوار بنائی۔پھر آہستہ آہستہ تمام ممالک میں پھیل گئے۔چونکہ ان ناموں کا مادہ اجؔ(آگ سے) ہے۔یہ قومیں بلحاظ اپنے رنگ اور اپنے کاموں کے آگ سے کام لینے والے ہیں۔غرض تمام قسم کی بدکاریوں۔آزادیوں۔خدا کے انکار۔انبیاء کی ہتک کے ظہور کا زمانہ۔ان کے پھیل جانے کا وقت بتاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۳) : زمانہ خروج یاجوج ماجوج ہر نیک و بد کا نمونہ موجود ہو گا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۸) ۹۸۔  : ہم بڑے مشرک تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۳) ۱۰۵۔  : جس طرح مضمون کے اندر اس کی تحریر