حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 130
اس وحی الہٰی میں ہمارے امام ہمام مہدی موعودعلیہ السلام حضرت مرزا غلام احمد کو ابرہیمؑ کہا گیا ہے۔اس کے علاوہ عالم الغیب قادر خدا نے آپ کو یہ بھی وحی کی ہے۔’’ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے‘‘ اور پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔کَمِثْلِکَ دُرَّ لَایُضَاعُیعنی تیرے جیسا موتی ہرگز ضائع نہیں کیا جاتا… سُنو۔تبش رِشی نے تو خود آگ میں ہاتھ ڈالا تھا مگر ابرہیم علیہ السلام خود آگ میں نہیں کو دے تھے۔اور نہ مومنوں مخلصوں راست بازوں اور اﷲ کے رسولوں کا یہ فعل ہوتا ہے کہ اﷲ کو آزمائیں بلکہ ان کو حکم ہے (البقرۃ:۱۹۶)یعنی اپنے تئیں خود ہلاکت میں نہ ڈالو۔اس سنّتِ الہٰی کی اتباع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں خود کود کر نہیں گرے تھے بلکہ لوگوں نے کہا۔حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْآ اٰلِھَتَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ… اب خدا تعالیٰ کی اسی سنّت کے موافق تم اور سارا جہان اور اس سفلی جہان کی ساری طاقتیں اور شوکتیں اور عداوتیں ہمارے امام مہدی اور مسیح کو آگ میں ڈال کر دیکھ لیں۔یقینا خدا تعالیٰ اپنے زندہ اور تازہ وعدہ کے موافق اس مہدی کو اسی طرح محفوظ رکھے گا جیسے پہلے زمانہ میں حضرت ابرہیم علیہ السلام کو اور ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو محفوظ رکھا۔یہ ہمارا آقا غلامِ احمد ہے۔اس لئے ضرور ہے کہ احمد، محمد صلی اﷲ علیہ وسلّم کی غلامی اور اتباع کی برکات اور ثمرات اسے حاصل ہوں۔جیسے خدا تعالیٰ نے اس کے متبوع کو (المائدہ:۶۸) کا وعدہ دیا۔اسی طرح اسے بھی برسوں پیشتر وَلَوْلَمْکا وعدہ دیا۔یہ خدا کا مسیح اور مہدی یقینا تمہاری آگ سے بچے گا اور ضرور بچے گا۔اس نے طاعون جیسی آگ کی خبر دی کہ آنے والی ہے۔اور کہا۔کہ میرے لئے آسمان پر ٹیکالگ چکا ہے آخر وہی ٹیکا سچا نکلا اور زمینی ٹیکا بیکار ہو گیا۔عیسائی لوگوں۔برہموؤں۔سکھوں اور آریہ سماج نے پھر خصوصیت سے لیکھرام کے واقعہ پر کیا آگ نہیں لگائی اور شیعہ۔سنّی۔مقلّد۔غیر مقلّد متصوّفوں اور ان کے شرکاء نے کیا کوشش میں کمی کی ہے اور کیسی آگیںنہیں جلائیں۔مگر سب خائب و خاسر ہوئے۔اب ظاہری آگ یا اس سے بھی زیادہ آگ کو لگا کر دیکھو۔پھر تم دیکھو گے۔یہ تمہاری آگیں بھسم ہوتی ہیں۔کہ نہیں۔یہ بھی رسولوں کے رنگ میں ہے تم اعداء الرسل کی طرح اس کا مقابلہ کرو اور دیکھو اس موعود انبیاء اور جانشین خاتم الرسل و خاتم النبییّن کے لئے بھی اسی طرح تمہاری آگ بَرد و