حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 116
ُسوْرَۃُ الْاَنْبِیَآئِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔ نزدیک آیا واسطے لوگوں کے حساب اُن کا اور وہ بیچ غفلت کے منہ پھیر رہے ہیں۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۶۹) انبیاء پر کیا اعتراض ہوتے ہیں ان کے ساتھ لوگ کیا سلوک کرتے ہیں۔انبیاء کی موافقت و مخالفت کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔انبیاء کے آنے کی کس وقت اور کیا ضرورت ہوتی ہے ان باتوں کا ذکر اس سورۃ میں ہے۔: پس انبیاء اس وقت آتے ہیں جب لوگ ایک عام غفلت میں پڑے ہوتے ہیں۔ایک بھائی خدا کو مانتا ہے اور دوسرا نہیں۔بایں ہمہ آپس میںمحبت سے رہتے سہتے ہیں غیرتِ دینی باہم نہیں رہتی۔جیسا کہ آجکل یورپ و امریکہ کی حالت ہے۔اس کا کچھ نہ کچھ رنگ ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ کی توجہ بعثت کی طرف ہوتی ہے۔ہزار برس کے بعد ایسا وقت ضرور آتا ہے۔سو برس کے بعد بھی بلکہ بعض کے نزدیک اس سے کم۔طِب کے معاملہ میں بھی اس کا نظارہ دیکھا ہے۔تورات میں طاعون کا ذکر ہے کہ ستّر ہزار آدمی مارے گئے مگر اب تو ہفتہ وار اتنی تعداد کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۰) : ادھر انسان کام کرتا ہے ادھر اس کا نتیجہ بھگتتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۷) : جس شخص یا قوم یا جماعت کا حساب ہونا ہوتا ہے وہ چوکس رہتی ہے۔پس آدمیوں کو اس حساب کیلئے کس قدر سنبھل کر رہنا چاہیئے۔