حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 114
کیونکہ ممکن تھا کہ بعض اسے منسوخ ٹھہراتے۔مگر ہمارے لئے تعامل سے صلوٰۃ کی ہیئت مخصوصہ مع اذکار قرآنِ مجید سے بھی زیادہ تواتر کے ساتھ محکم ہو گئی۔اسلام کے جس قدر فرقے ہیں۔جن میں سے بعض ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور ایک دوسرے کی مسجدوں تک نہیں جاتے سب کے سب صلوٰۃ کے ان معنوں پر متفق ہیں جو تعامل سے بقدر مشترک ثابت ہوتے ہیں۔تعجّب ہے کہ یہ لوگ واقعہ کربلا ۱۔نادِعلی۲۔یزید۳۔معاویہ ۴۔تو مانتے ہیں۔اور جس ذریعے سے مانتے ہیں۔جب اس ذریعہ سے صلوٰۃ کی ہیئت ثابت کی جائے تو اس سے انکار کریں۔ایک اور لطیفہ بھی قابلِ یاداشت ہے کہ بادشاہوں نے یہاں تک زور پایا کہ بڑے بڑے ائمہ کو قیدکر دیا یا مار دیا۔جیسے امام ابوحنیفہؒ کو امام احمد بن حنبلؒ کو۔پھر بھی ان سب کی نماز یہی رہی۔چشتیاء۔نقشبندی۔سہروردی۔ان سب کے مشائخ کی نمازیں بھی یہی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۰) ۱۳۲۔ : قسما قسم کے بے ایمانوں کو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۰) ۱۳۳۔ : حکم کرتے ہو۔: استقلال سے حکم کرتے رہو اور آپ نماز پر پکّے رہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۰)