حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 105
: نیلی پیلی آنکھوں والے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۷) : ہم دنیا میں دس صدیاں رہیں۔یہ ایک خاص قوم کی نسبت پیشگوئی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۸) : ہزار برس شان و شوکت تھی (تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۷) ۱۰۶، ۱۰۷۔ جِبَالَ: بڑے آدمی۔عرب میں ایسے نام بھی رکھے جاتے ہیں۔نیک آدمی کا ذکر ہے جسے امر بالمعروف کا شوق تھا۔کہ اس نے ایک امیر کے ملازم ( جو اس کے منہ چڑھا تھا) کے ہاتھ میں ایک غیر مشروع چیز دیکھی تو اُسے پکڑ کر توڑ دیا۔امیر نے اس قسم کی چیز اپنے ہاتھ میں لی اور واعظ کو بلایا اور پوچھا کہ آپ نے ہمارے آدمی کی چیز توڑ دی ہے۔کہا۔ہاں۔پوچھا کیوں؟ کہا رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا۔مَنْ رایٰ مِنْکُمْ مُنْکرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ، وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ، وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ، وَ ذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔جو کوئی تم میں سے کوئی غیر مشروع امر دیکھے تو اپنے ہاتھ سے اُسے بدلے اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے سمجھائے۔یہ بھی نہ ہو تو دل سے بُرا منائے اور یہ سب سے بڑھ کر ضعیف ایمان ہے۔اس پر اس امیر نے کہا۔میرے ہاتھ میں بھی وہی چیز ہے۔وہی سلوک اس سے کیوں نہیں کرتے؟ اُس نے کہا آپ کو سمجھانے والے کا ذکر قرآن شریف میں لکھا ہے۔اس نے پوچھا۔کہاں؟ تو اس نے یہ آیت پڑھی۔اور اس زور سے پڑھی کہ مارے دہشت کے وہ چیز اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔اور ٹوٹ گئی۔ : ان کو اﷲ تعالیٰ اُڑا دے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۹) : ان سلطنتوں کو مٹا دے گا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۷ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۰۹،۱۱۰۔