حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 100
لوگ کہتے ہیں۔فلاں زبان محدود ہے۔محدود کیا ہوتی ہے۔عقلاء و فصحائِ قوم خود ہی زبان کو وسعت دے لیتے ہیں۔طغیان کہتے ہیں مذہبی حد سے باہر نکل جانے کو۔انبیاء بھی جب آتے ہیں تو حدود اﷲ مقرر کرتے ہیں۔جو قوم ان سے گزرے اسے طاغیہ کہتے ہیں۔(بدر ۵؍ اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۱۲) ۸۳۔ چار باتیں ہوں تو اﷲ معاف کر دیتا ہے۔۱۔آدمی اپنی اصلاح کرلے ۲۔ایمان لائے ۳۔عملِ صالح کرے ۴۔جو بُری بات چھوڑ دی ہے اس کے بالمقابل اچھی بات اختیار کرے۔(بدر ۵؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۲) ۸۴،۸۵۔ : اس موقعہ کا ذکر ہے۔جب موسیٰ طور پر گئے تھے۔ہمارے نبی کریمؐ بھی دنیا سے جلدی چل دئے۔ہم بھی ان کے پیچھے آخر وہیں حاضر ہونے والے ہیں۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی وفات کے بعد مسلمان بھی فتنہ میں پڑے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۸) : سے استنباط ہوا کہ نماز میں اوّل وقت جانا چاہیئے۔(بدر ۵؍ اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۱۲) ۸۶۔