حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 99
: نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے پیچھے بھی لوگ پکڑنے کے لئے دوڑے اور پکڑ کر لانے والے کیلئے ۳۳ ۱؎ اونٹ انعام مقرّر کئے۔: جیسے فرعونیوں پر بَلا آئی۔ویسے ہی مشرکانِ مکّہ پر بھی آئی۔:۔وہال فرعون تھت اور یہاں ابوجہل (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۸) ۱؎ بعض روایات کے مطابق ایک سو ۱۰۰ اونٹ انعام مقرر کیا گیا تھا۔دیکھیں سیرۃ ابن ہشام باب ہجرۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الی المدنیۃ (مرتب) : فرعون نے اپنی قوم کو ہلاک کیا۔(نورا لدّین طبع سوم صفحہ۷۷) جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو خدا تعالیٰ پکڑ لیتا ہے۔اس میں کسی فرعون کی خصوصیت نہیں بلکہ اگر مرزائی بھی ایسا ہو گا تو وہ بھی پکڑا جائے گا۔ابن ابی لیلیٰ کے پاس ایک مجرم پکڑا آیا۔آپ نے اُسے سزا دی۔مگر نرم۔اس نے عرض کیا کہ پہلی دفعہ کا جرم ہے۔تخفیف فرمائیے۔آپ نے دُگنی سزا دی اور فرمایا۔کہ تم نے جھوٹ بول کر عدالت کی توہین کی۔ایک شخص نے پوچھا کہ حضرت وہ تو رحم کے قابل تھا۔آپ نے سزا بڑھادی۔فرمایا۔خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے (المائدہ:۱۶)جس سے معلوم ہوا کہ وہ پہلی دفعہ نہیں پکڑتا۔پس اس کی گرفتاری اس کو ثابت کرتی ہے کہ یہ جرم کئی دفعہ اس سے ہو چکا ہے اور اﷲ تعالیٰ ستّاری فرماتا رہا ہے۔(بدر ۵؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۱۲) ۸۱۔ : بے محنت رزق۔: تسلّی کی چیزیں۔شہد۔بعض بٹیر کو کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۸) ۸۲۔