حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 98
۷۸۔ یہ کہ رات کو لے چل میرے بندوں کو۔پھر چل ان کیلئے ایک خشک راہ جو دریا میں ہے۔مت ڈریو۔کسی کے احاطہ سے۔اور نہ کسی قسم کا خوف کرنا۔(نور الدّین طبع ثالث صفحہ ۱۵۷) اس رکوع میں قصّہ تو موسیٰ کا ہے مگر خدا تعالیٰ نے اس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کے صحابہ کرامؓ اور آپ کے پیچھے آنے والوں کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔اس لئے فرمایا (یوسف:۱۱۲) : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو بھی یہ حکم ہونا تھا چنانچہ گویا یہیں اشارہ فرما دیا اور یہ سورۃ مکّی ہے۔چنانچہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم ابوبکرؓ جیسے پاک بندے کے ساتھ راتوں رات گئے۔: بَحْرٌ عربی زبان میں کُھلے میدان کو بھی کہتے ہیںکَلَّمْتُہٗ بَحْرًا وَ سِحْرًا۔فلاں آدمی سے میں نے بات کُھل کے کی۔سمندر کو بحر بھی اس لئے کہتے ہیں۔دو محاورے حدیثوں کے اس وقت یاد آ گئے ہیں۔عبداﷲ بن ابی بن سلول نے جب رسول کریمؐ کی کچھ مخالفت کی تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ اس بحر کے لوگ اتفاق کر چکے تھے کہ اس کو بادشاہ بنادیں۔آپ کے آنے سے یہ منصوبہ پورا نہیں ہوا۔اس لئے یہ حسد کرتا ہے۔مکّہ و مدینہ میں جو وسیع میدان تھا۔اس کو بحر کہتے ہیں۔: موسٰیؑ جس رستہ سے گئے تھے وہ خشک تھا۔چنانچہ فرمایا کہ تم اس رستے جاؤ جو سمندر میں خشک پڑا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۸) ۷۹۔۸۰۔