حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 97
کا مظہر بناتا ہے پھر اﷲ انہیں عبودیت بخشتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس میں لامحدود ترقیاں ہو سکتی ہیں… قربانی کا نظرہ عقلمند انسان کیلئے بہت مفید ہے اپنے اعمال کا مطالعہ کرو اپنے فعلوں میں۔باتوں میں۔خوشیوں میں۔ملنساریوں میں۔اخلاق میں غور کرو کہ ادنیٰ کو اعلیٰ کیلئے ترک کرتے ہو یا نہیں؟ اگر کرتے ہو۔تو مبارک ہے۔ہمارا وجود عیب دار قربانیاں چھوڑ دے۔تمہاری قربانیوں میں کوئی عیب نہ ہو۔نہ سینگ کٹے ہوئے۔نہ کان کٹے ہوئے۔قربانی کیلئے تین راہیں ہیں۔۱۔استغفار ۲۔دُعا ۳۔صُحبت صلحاء۔انسان کو صحبت سے بڑے بڑے فوائد پہنچتے ہیں۔صُحبتِ صالحین حاصل کرو۔قربانی کیلئے تین دن ہیں۔پر رُوحانی قربانی والے جانتے ہیں کہ سب ان کیلئے یکساں ہیں۔میں تمہیں وعظ تو ہر روز سناتا ہوں۔خدا عمل کی توفیق دیوے۔(بدر ۲۱؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ۷ـ۔۸) تقوٰیایسی چیز ہے کہ دعاؤں کو قبولیت کے لائق بنا دیتا ہے۔۔بلکہ اسکے ہر فعل میں قبولیت ہوتی ہے۔(الحکم ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۴) ۳۰۔۳۱۔ : یعنی میرے قتل کا جو گناہ ہے وہ بھی تُو حاصل کرے۔یہ بھی ایک جذباتِ رحم کو برانگیخت کرنیوالی درکواست اور نصیحت دینے والی بات تھی کہ اور ہر طرح سے تُو شریر تو ہے ہی۔اب یہ ایک گناہ ہے۔یہ بھی کر لے اور دوزخی بن جا۔میں نے کیا کہنا ہے۔: ایسا ٹوٹا پانے والا ہوا کہ جس خاندان نے اس سے شادی کی وہ بھی تباہ ہوا۔معلوم ہوا۔شادی صلحاء میں کرنی چاہیئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۵؍ اگست ۱۹۰۹ء) : وہ بدی جو مجھے قتل کرنے سے تو حاصل نہ کریگا۔: اور تیری اور بدیاں بھی تیرے ذمّہ ہیں۔اس قصّے میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ ابراہیم بھی ایک آدم تھا اس کے دو بیٹے اسمٰعیل و اسحاق