حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 92
جو لوگ آپؐ ( محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم) کی تعلیم سے تیار ہوئے۔وہ کیسے نمونہ تعلیم محمدیؐ کے تھے۔اور جو موسٰی اور عیسٰی علیھما السّلام کی تعلیم میم تھے وہ کیسے نمونہ تھے۔ایک نمونہ وہ ہیں جن کو فرعون کی غلامی سے موسٰیؑ کے سبب ازادی ملی۔مصر کے آہنی تنور سے۔( یرمیاہ باب ۴) بہت کچھ مال و اسباب لے کر برے سمندر سے خشکی پر نکلے موسٰی کے ذریعہ مَن و سلوٰی کھایا جب موسٰی نے حکم دیا حالانکہ موسٰی بنی اسرائیل کیلئے خدا سا تھا (خروج ۴ باب۱۰) تو صاف انکار کر گئے۔( گنتی ۱۳ باب ۲۳ و گنتی ۱۴ باب ۱۔۳) قرآن شریف میں بھی اشارہ ہے۔ بولے اے موسٰی وہاں ایک قوم ہے زبردست اور ہم ہرگز وہاں نہ جاویں گے جب تک وہ نہ نکل چکیں وہاں سے۔بولے اے موسٰی۔ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے جب تک وہ اس میں رہیں گے۔سو تُو جا اور تیرا رب اور دونوں لڑو ہم یہاں ہی بیٹھیں گے… اور ادھر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اتباع کو دیکھئے۔آپؐ کی اتباع میں وطن سے نکالے گئے۔اموال و اسباب سے محروم ہو گئے۔کمال مصیبت کی حالت میں پوری کمزوری کے وقت میں کہتے ہیں لا نقول کما قال اصحاب مُوْسٰی اِذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا وَلٰکِنّا نقاتل عن بَمِیْنکَ وَعَنْ شمالک وَبَیْنَ یَدیْکَ وَ خَلْفَک َ (بخاری جلد ۲۔کتاب المغازی۔مطبوعہ مصر صفحہ۳) ہم نہیں کہتے جیسے موسٰی کی قوم نے کہا۔جاؤ موسٰی اور تیرا رب اور دونوں لڑو۔لیکن ہم تیرے داہنے اور تیرے بائیں اور تیرے آگے اور تیرے پیچھے تیرے دشمنوں سے لڑیں گے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۲۳۔۲۴) ۲۶۔