حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 7
۵۔ : مسلمان جب پہلے پہلے یہاں آئے تو ان کے پاس روپیہ بہت تھا۔وہ لاکھوں کا مہر باندھ دیتے تھے۔مگر اب یہ حالت نہیں۔پس قدر کے مطابق مہر باندھو اور دل سے ادا کرو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۲؍جولائی ۱۹۰۹ء) ۶۔ کم عقلوں۔نشیب و فراز نہ سمجھنے والوں کو مال سپرد نہ کرو۔(نور الدین ایڈیشن سوم صفحہ۱۷ دیباچہ) مال کمانا سہل ہے۔پر خرچ کرنا بہت اہم ذمّہ داری کا کام ہے۔عورتوں کی قوم بڑی کمزور ہوتی ہے۔پس اموال انکو نہ دیدو۔ایسا ہی لڑکوں کے حوالہ مال نہ کیا کرو۔کئی لڑکے فضول خرچ ہوتے ہیں۔صرف اس لئے انہیں پیسے دے دیئے جاتے ہیں۔ہمیشہ چیز منگوا کر دینی چاہیئے اس لئے محکمہ کورٹ آف وارڈز کا اصولی حکم اسلام نے ہی رکھا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۲؍ جولائی ۱۹۰۹ء) ۷۔