حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 70
: عیسائی لوگ حضرت مسیحؑ کو خدا سمجھتے ہیں۔بعض بیٹا کہتے ہیں۔قرآن شریف نے جب بڑے بڑے وعظ کئے کہ وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے تو بعض احمقوں نے کہا۔اتنی مدّت سے ہم اسے بڑا مانتے آئے ہیں۔کہیں ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔خدا فرماتا ہے کہ مسیح ناک نہیں چڑھاتا۔بُرا نہیں مانتا۔۔اَلْکِبْرِیَآئُ رِدَائِیْ۔تکبّر خدا کی صفت ہے۔انسان کیلئے تکبّر کرنا بہت ہی بُری چیز ہے۔مَیں جب پاخانہ میں جاتا ہوں تو مجھ کو خیال ہوتا ہے کہ جس کے اندر سے یہ نکلتا ہے وہ کبریائی کرے ذرا ہوا بند ہو جائے تو بس پھر خاتمہ ہے۔پھر قریباً سب کی مائیں جو چُوہڑیوں کا کام کرتی ہیں ۱؎۔بس انسان کو اپنی ذات پر کیا گھمنڈ ہو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان۵؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۷۵۔ ۱؎ یعنی بخّوں کو پاخانہ پیشاب کروایتی اور ان کے کپـڑے وغیرہ صاف کرتی ہیں۔(مرتّب) : افسوس کہ آجکل قرآن مسلمانوں نے پانچ کاموں کیلئے بنا رکھا ہے ۱۔سرحد میں تو اس لئے کہ کسی کے ساتھ دغا کرنا ہو تو اس پر پنجہ لگاتے ہیں ۲۔کچہری میں جھُوٹی قسموں کیلئے ۳۔عام طور پر کسی جنتر منتر کیلئے ۴۔حافظ لوگ کبریائی کیلئے کہ کوئی کہے ہم بھی حافظ ہیں ۵۔بعضے روپیہ کمانے کیلئے۔کئی لوگ آتے ہیں مجھے کہتے ہیں۔کوئی وظیفہ بتاؤ۔ایک عامل نے بتایا کہمَنْ یَّتَّقِ اﷲَ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ (الطلاق :۱۴) رٹا کرو۔ہم اس نکتہ کو سمجھ گئے کہ یہ رٹنے کیلئے نہیں۔عمل کیلئے ہے۔پھر اسے مجرّب پایا۔متقی بن جاؤ۔خدا اپنی جناب سے رزق دیگا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان۵؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۷۶۔ سو جو یقین لائے اﷲ پر اور اس کو مضبوط پکڑا تو ان کو داخل کرے گا اپنی مِہر میں اور فضل میں اور پہنچا دیگا اپنی طرف سیدھی راہ پر۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۶۵،۱۳۵)