حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 67 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 67

: حضرت عیسٰی ؑ پر ایمان لانے کے معنی ہوں تو پھر اسلام کو کیا۔جس میں حضرت محمّد مصطفٰےؐ پر ایمان لانا ضروری ہے۔صحیح معنی یہ ہیں۔کوئی اہلِ کتاب ہو ( یہودی، عیسائی) حضرت مسیحؑ کے قتل پر (یہ) ایمان لاتا ہے ( لاتا رہے گا)۔مگر یہ سب ایمان ہر ایک کتابی کا مرنے سے پہلے تک ہے۔مرنے کے بعد حقیقت کُھلے گی کہ مَیں غلطی پر تھا۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۰) : اس سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن سچ گواہی دیگا۔مگر دُنیا میں آ کر نہیں۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۰) ۱۶۱۔  : طیّبات سے آدمی محرم ہو جاتا ہے جب وہ شِرک پر کمر باندھے  سے روکے۔اَمْوَال النَّاس بِالْبَاطِل کھانا شروع کر دے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان۵؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۶۴۔   : وحی کہتے ہیں جو جلدی سے کسی بات کو بتادے۔وحی کی کئی قسمیں ہیں۔ایک وہ جو زمین کو بھیجی گئی۔ (الزلزال : ۶) پھر وہ شہدکی مکھی کو بھیجی جاتی ہے۔پھر وہ حضرت موسٰیؑ کی ماں کو بھیجی گئی۔پھر اور وحی جو اِن بزرگوں کو بھیجی گئی جو نبی نہ تھے۔جیسے فرمایا۔ (المائدہ : ۱۱۲)