حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 560
حضرت مسیحؑ کے حق میں اَیَّدْنَاہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (بقرۃ:۸۸) جو آیا ہے۔اس سے مُراد بھی صریحاً کلامِ الہٰی ہی ہے۔ایک اور دلیل اس بات کی کہ یہاں رُوح سے مراد کلامِ الہٰی ہے۔یہ ہے کہ اس سے پہلے تین آیت قرآن مجید کا ذکر ہے۔کہ بنی اسرائیل:۸۳)فرمایا اور پھر اس کے بعد بھیقُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنَُّ میں قرآن مجید کا ذکر ہے۔جس سے صاف کُھل گیا۔یہاں رُوح سے مراد کلامِ الہٰی ہی ہے۔پھر دیکھواَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ بھی ساتھ ہی فرمایا : تنبیہًا فرمایا کہ تم بڑے ہی بے وقوف ہو کہ کیا تم کلامِ الہٰی قرآن اور دوسرے کلاموں میںجن میں احادیث رسولؐ بھی شامل ہیں۔بیّن فرق نہیں پاتے۔یہ بہت ہی بے ادبی کا کلمہ ہے کہ صحابہ کو بے علم کہا جاوے۔گو کہنے والا علّامہ کہا جاوے کہ تم رُوح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے۔عام تفاسیر میں یہ بات نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۳؍مارچ ۱۹۱۰ء) : کلامِ پاک (قرآن) کے بارے میں۔: یہ خدا کے حکم سے آیا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۳۶۳،صفحہ۳۶۴) رسولِ خُدا صلی اﷲ علیہ وسلم کے دعوٰی مفسّر ہونے پر اہل کتاب نے چند سوال کئے۔ایک رُوح کے متعلق کیونکہ قِدْمِ رُوح کا ایک جہان قائل تھا اور اس اعتقاد نے رُوح کے غیر مخلوق ماننے میں پھنسا رکھا تھا اسی واسطے یہود نے اور انکے ساتھ اَور لوگوں نے پوچھا۔رُوح کی نسبت فرمایئے۔جیسے قرآن میں ہے پھر ان کے جواب میں حکم ہواتُو کہہ کہ رُوح میرے رب کے حکم سے بنی ہے۔یعنی مخلوق ہے قدیم نہیں۔اور لوگوں کو جتایا کہ اگر رُوح پہلے سے موجود ہوتی اُسے علم بھی ہوتا۔لاکن دیکھتے ہو۔ (النحل:۷۹) (فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۷۳) حیات دوحاصل قسم کی ہوتی ہے۔ایک جسمانی اور دنیوی اور دوسری روحانی اور اُخر وی۔پہلی قسم کی حیات حاصل کرنے کے سامان اگر جڑھ پدارتھ میں اﷲ تعالیٰ نے رکھے ہیں تو دوسری قسم کے حیات کے اسباب بھی چتین وَسْتُوْ میں ضرور رکھے ہیں۔قرآن میں دونوں محاوروں کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا گیا ہے سنو! اوّل جسمانی حیات اور جسمانی زندگی کی نسبت فرمایا ہے۔۱۔ (البقرۃ:۱۶۵)