حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 555
کے پاس بیٹھنے سے پہلے غور کرو کہ کیسا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۳؍مارچ ۱۹۱۰ء) ۷۶۔ : اس دنیا کی زندگی میں دُکھ و عذاب۔یہ معنی بخاری نے کئے ہیں۔یہی مجھے پسند ہیں۔۷۷۔ یقینًا یہ لوگ (اہلِ مکّہ) (محمدؐ) اس زمین مکّے سے نکال ڈالنے والے ہیں مگر تیرے بعد یہ لوگ بھی تھوڑی ہی دیر رہیں گے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۶۹) اﷲ اﷲ یہ پیشن گوئی کیسی پوری ہوئی۔عادت اﷲ قدیم سے اس طرح پر جاری ہے کہ جن قوموں نے ہادیانِ برحق کے نصائح نہ سُنے اور ان کے دل سوز مشفقانہ کلام پر دھیان نہ کیا۔ضرور وہ کسی نہ کسی تباہی میں گرفتار ہوئے اور جھوٹے نبی کا نشان یہ دیا گیا ہے کہ وہ قتل کیا جاوے گا۔اور جو کوئی اس نبیؐ کی بات نہ مانے گا۔سزا پائے گا۔اب کفّارِ عرب اس سچّے رؤف و رحیم ہادی کو جھٹلا چکے ہیں۔طرح طرح کی اذیتّیں دل کو کپکپا دینے والے آزار دے چکے ہیں۔چونکہ وہ نبی صادق و مصدوق ہے اور وہ نبی وہ ہے جس کی نسبت موسٰیؑ بڑے فخر سے بشارات دیتے چلے آئے ہیں۔اب خدائی غضب اُمنڈ آیا۔کلمۃ اﷲ برسرِ انتقام آمادہ ہوا۔کہ اُن کے دشمنانِ دینِ حق کو ہلاک کیا جاوے۔مگر باری تعالیٰ بایں ہمہ اپنے رسولؐ سے فرماتا ہے کہ جب تک تُو ان لوگوں میں موجود ہے ( یعنی سر زمینِ مکّہ میں ) ان پر عذاب نہ ہو گا اور عالم الغیب حق تعالیٰ ایک سال میعاد مقرر فرماتا ہے کہ یقینًا اس عرصے میں بلا تقدم و تاخیر ایک ساعت کے یہ واقعۂ زوال وقوع میں آئے گا۔قدرتِ حق کا کرشمہ مشاہدہ فرمائیے کہ کیونکر یہ وہ ایک سال بعد پورا ہوتا ہے۔اب کفّارِ عرب نے جن کا سرغنہ ابوجہل تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے