حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 554 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 554

دانشمند انسان غور کرے کہ وہ جہاں اولین و آخرین جمع ہوں گے۔کس جماعت میں پیش ہونا چاہتا ہے۔دنیا میں بھی کوئی بدمعاشوں۔شہدوں کے ساتھ ہو کر بادشاہ کے حضور پیش ہونا پسند نہیں کرتا تواَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن کے حضور اوّلین و آخرین کے سامنے کب گوارا کر سکتا ہے کہ بُری جماعت میں ہو کر پیش ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) یہ بات بڑی غور طلب ہے کہ ایک شخض بظاہر اچھے لباس میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔نمازی بھی نظر آتا ہے لیکن کیا اسے اتنی ہی بات پر مطمئن ہو جانا چاہیئے؟ ہرگز نہیں۔اگر اسی پر انسان کفایت کرتا ہے اور اپنی ساری ترقی کا مدار اسی پر ٹھہراتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے۔جب تک اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اُسے یہ سرٹیفکیٹ نہ مل جاوے کہ وہ مومن ہے وہ مطمئن نہ ہو۔سعی کرتا رہے اور نمازوں اور دعاؤں میں لگا رہے تاکہ کوئی ایسی ٹھوکر اسے نہ لگ جاوے جو ہلاک کر دے۔عام پور پر تو یہ فتوٰی اسی وقت ملے گا جبکہ سعادت مند جنّت میں داخل ہوں گے۔اور شقی دوزخ میں۔لیکن خدا تعالیٰ یہاں بھی التباس نہیں رکھتا۔اسی دنیا میں بھی یہ امر فیصل ہو جاتا ہے۔اور مومن اور کافر میں ایک بیّن امتیاز رکھ دیتا ہے جس سے صاف صاف شناخت ہو سکتی ہے۔ہر ایک شخص ان آثار اور ثمرات کو جو ایمان اور اعمالِ صالحہ کے ہیں اسی دنیا میں بھی پا سکتا ہے اگر سچا مومن ہو بلکہ اگر کوئی شخص اس دنیا میں کوئی نتیجہ اور اثر نہیں پاتا تو اُسے استغفار کرنی چاہیئے۔اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں اندھا نہ اٹھایا جاوے۔مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے بارہا اس سوال کو چھیڑا ہے اور اپنی تقریروں میں بیان کیا ہے کہ بہشتی زندگی اور اس کے آثار اور ثمرات اسی عالم سے شروع ہو جاتے ہیں۔جو شخص اس جگہ سے وہ قوٰی نہیں لے جاتا وہ آخرت میں کیا پائے گا۔(الحکم ۲۴؍جون ۱۹۰۴ء صفحہ۱۳) ۷۵۔ : جب حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انکی صحبتوں میں بیٹھنے سے ممکن ہے کہ تم کسی فتنہ میں پر جاؤ تو پھر دوسرے مومن کس گنتی میں ہیں۔غافلوں کی صحبت سے بہت بچنا چاہیئے۔صحبت کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔پس تم کسی