حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 547 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 547

’’ ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔‘‘ استۃناء ۱۸ باب ۱۸۔’’ حکم پر حکم۔حکم پر حکم۔قانون پر قانون۔قانون پر قانون ہوتا جاتا۔تھوڑا یہاں۔تھوڑا وہاں۔ہاں وہ وحشی (عربی) کے سے ہونٹوں اور اجنبی زبان سے اس گروہ سے باتیں کریگا۔‘‘ یسعیاہ ۲۸باب:۱۰،۱۱ ان آیات سے صاف عیاں ہے کہ اس نبی موعود کو جو کلام عطا ہو گا وہ اس نبی کے مُنہ میں ڈالا جاوے گا اور بتدریج نازل ہو گا۔کچھ یہاں۔کچھ وہاں۔یعنی مچھ مکّہ میں اور کچھ مدینہ میں۔کچھ کہیں۔کچھ کہیں۔اب قرآن کریم کی طرف نگاہ کرو۔اس میں ایک جگہ لکھا ہے۔کافر کہتے ہیں۔(بنی اسرائیل:۹۴) تو اے محمد چڑھ جا آسمان پر اور تیرے چڑھنے پر تجھے نہ مانیں گے جب تک اوپر سے ایسی کتاب نہ لاوے جس کو ہم پڑھ لیں۔اب بتلایئے اس طلب کو بجُز اس کے کیا جواب ہو سکتا ہے کہ پاک ذات ہے میرا رب اس نے میرے لئے جو تجویز فرما دی۔وہ ناقص نہیں کہ اب تجویز کو بدلادے اور میں تو بشر رسول ہوں۔بشر رسول تو ہمیشہ وہی معجزات دکھاتے رہے جو انکی بشارات کے برخلاف نہ تھے اور وہی نشان لائے جو اﷲ تعالیٰ نے ان کے واسطے مقرر فرمائے تھے۔ششم اس لئے کہ معجزات کاظہور اور انبیاء کافر مودہ کبھی بتدریج ظہور پذیر ہوتا ہے اور انبیاء علیھم الصلوٰۃ و السلام چونکہ بشر اور رسول ہوتے ہیں۔وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں ہوتے کہ خدائی ارادے کا خلاف چاہیں۔شریر لوگ ایسے موقّت معجزات کو قبل از وقت چاہتے ہیں۔چونکہ وہ معجزات وقتِ معیّن پر ظاہر ہونے والے اور مشروط بشرائط ہوتے ہیں۔اسی لئے قبل از تحقیق شرائط اور اس وقتِ معیّن کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتے۔مثلاً حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان نبی اسرائیل سے جو فرعون کی سخت تکالیف اُٹھا رہے تھے۔وعدہ ہوا کہ تم کو کنعان وغیرہ وغیرہ کا ملک عطا ہو گا۔دیکھو توریت۔’’ مَیں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں یقینًا دیکھی۔اور انکی فریاد جو خراج کے محصّلوں کے سبب سے ہے سُنی۔اور مَیں اُن کے دُکھوں کو جانتا ہوں۔اور مَیں نازل ہوا ہوں کہ انہیں مصریوں کے ہاتھ سے چھُڑاؤں اور اس زمین سے نکال کے اچھی وسیع زمین میں جہاں دودھ اور شہد موج مارتا ہے لے جاوں۔کنعانیوں۔حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حوّیوں اور ہو سیوں کی جگہ میں لاؤں۔(خروج ۳ باب: ۷،۸) مگر دیکھو۔یہ وعدہ اس قوم کے حق میں پورا نہ ہوا۔جنہوں نے فرعون سے دُکھ اٹھایا۔دیکھو۔خداوند نے تمہاری باتیں سنیں اور غصّے ہوا اور قسم کھا کے یوں بولا کہ یقینًا ان شریر پُشت کے لوگوں میں ایک بھی ا