حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 545
اور نہیں منع کیا ہم کو نشانوں کے بھیجنے سے پہلوں کی تکذیب نے ‘‘ کم سے کم یہ آیت انکارِ معجزہ پر صاف اور واضح دلیل نہ رہی۔کیونکہ اس آیت سے معجزہ کا ثبوت نکلتا ہے۔نہ نفی۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔اِنْ ھٰذَا اِلَّا بِتَائِیْدِرُوْحِ الْقُدْسِ۔دومؔ اس لئے کہ اِلَّا ایک حرف ہے جس کے معنے واؤ عاطفہ کے بھی آتے ہیں دیکھو معانی اور نحو کی بڑی بڑی کتابیں اور ثبوت کیلئے دیکھو یہ آیت شریف اِنِّی لَایَخَافُ لَدَیَّ الْمُدْسَلُوْنَ اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوْئٍ (نمل:۱۱) اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔میرے پاس میرے رسولوں اور انہیں خوف ہی نہیں جنہوں نے گناہ کرتے کرتے گناہوں کو چھوڑ دیا اور گناہوں کے جا بجا نیکی کرنے لگے۔امام اَخفش۔امام فراء۔امام ابوعبید ائمہ لغت و نحو نے کہا ہے۔یہاں اِلَّا واؤ کے معنے پر آیا ہے۔ایسے ہی آیت شریف (بقرہ:۱۵۱) تُو کہہ نہ رہے تم پر عام لوگوں اور خاص کر بدکاروں کی کوئی حُجّت اور دلیل۔پھر اس تحقیق پر منکرین کی پیش کردہ آیت کے یہ معنی ہوں گے۔’’ اور نہیں منع کیا ہم کو آیات کے بھیجنے سے کسی چیز نے اور منکروں کی تکذیب نے‘‘۔اور یہ عطف خاص کا ہو گا عام پر۔غور کرو۔منکروں کی تکذیب ہرگز ہرگز معجزات کے روکنے والی نہیں۔اگر انکی تکذیب روکتی تو فرعون نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے بڑے بڑے معجزات کا انکار کیا تھا۔پھر کیا اﷲ تعالیٰ نے حصرت موسٰیؑ کو معجزات عطا نہ کئے؟ بلکہ منکر ہمیشہ انکار کرتے رہے اور معجزات بھی آتے رہے۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔اِنْ ھٰذَا اِلَّا بِتَائِیْدِرُوْحِ الْقُدْسِ۔تیسرا۔اس لئے کہ ہم نے مان لیا۔یہاں اِلَّا کا لفظ زائد نہیں۔عاطفہ بھی نہیں۔استثناء کے واسطے ہے۔۔اَ لْاٰیَات کا الف اور لام عہد اور خصوصیت کے معنے دیگا یا عموم اور استغراق کے۔پہلی صورت عہد اور خصوصیت کی اگر ہو گی تو آیت کے یہ معنے ہوں گے۔اور نہیں منع کیا ہم کو خاص آیات کے بھیجنے سے مگر پہلوں کی تکذیب نے۔اس سے یہ نکلا کہ خاص آیات اور کوئی خاص معجزات نہ آویں گے۔اس سے عموم معجزات کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔دوسری صورت یعنی اگر الف اور لام سے عموم اور استغراق لیا جاوے تو یہ معنی ہوں گے