حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 532 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 532

  اگر ان لوگوں کے دینے کو جنہیں دینا ہے تیرے پاس کچھ نہ ہو اور تُو اس امید پر کہ عنقریب تجھے تیرا محسن ربّ کچھ دیگا۔تو سرِدست ان کو ایسا جواب دے۔جسے ان کو آرام ہو اور انکی امید بڑھے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۵۹-۲۶۰) : اگر پاس کچھ نہیں تو کوئی عمدہ بات ہی کہہ دے۔ہمارے ایک شیخ تھے حسین ؔ نام مکّہ میں وہ سائل کے چہرے کو دیکھ دیکھ کر اس کے مناسب حال خدا کے مربّی نام کا وِرد بتا دیتے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۴؍فروری۱۹۱۰ء) نہ ایسا بخیل کنجوس بن۔کہ گویا تیرے ہاتھ تیری گردن سے بندھے ہیں۔اور نہ اتنا فضول خرچ بن کہ کچھ بھی تیرے پاس نہ رہے اگر ایسا ہوا تو تجھے ملامت لگے گی اور تھکا ماندہ رہ جاوے گا۔( بعض انسانوں کی حالت ایسی حالت ہوتی ہے کہ محتاج کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں اور فضول کر بیٹھتے ہیں۔ایسوں کو مخاطب کر کے فرمایا) تیرے رب کی طرف سے ہے کہ کسی کو دولتمند کرتا ہے اور کسی کو مفلس۔تو کیوں گھبرا جاتا ہے وہ حکیم اپنے بندوں سے واقف اور انکے حالات پر آگاہ ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۶۰) ۳۲۔  او لوگو! اپنی اولاد کو اس لئے تو قتل نہ کیا کرو۔کہ ہم ان کو کہاں سے کھلاویں گے۔تو اور وہ ہمارا ہی رزق کھاتے ہیں اور بات تو یہ ہے کہ اولاد کا قتل کسی سبب سے کیوں نہ ہو بڑی بھاری غلطی ہمارا ہی رزق کھاتے ہیں اور بات تو یہ ہے کہ اولاد کا قتل کسی سبب سے کیوں نہ ہو بڑی بھاری غلطی اور بدی ہے۔(تصدیق براہینِ احمدیہ صفحہ ۲۶۰) : انسان میں ایک غضب کی طاقت ہے۔وہ جب حد بڑھتی ہے تو کئی کئی رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے۔غضب والا انسان گالی دیتا ہے۔اپنی اولاد کو قتل کر دیتا ہے۔اس قتل کے بڑے اسباب میں سے مردوں کی بد چلنی بھی ہے۔پھر مفلسی کا ڈر۔جیسا کہ آجکل بعض لوگ کہتے ہیں کہ بہت اولاد نہیں چاہیئے یہ موجب ہے ملک کے افلاس کا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ فروری ۱۹۱۰ء)