حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 531 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 531

: اپنے اقرباء سے شکایتیں نوجہ زیادہ معاملہ پڑنے کے پیدا ہو جاتی ہیں اُن کو خلوص سے دینا مشکل ہو جاتا ہے اس لئے اس کی تاکید فرمائی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۴؍فروری۱۹۱۰ء) ۲۸۔  : انسان خیال کرے کہ ایک کھانا جو وہ کھاتا ہے اس کے اجزاء کہاں کہاں سے آئے اور کس مشکل اور کنِ مختلف تبدیلیوں کے بعد انکا ایک لقمہ اس کے منہ تک پہنچا۔یہ سب سامان وَ اٰتَکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوْہُ (ابراہیم:۳۵) کے ماتحت حضرت حق سبحانہٗ نے پہلے سے عطا فرمائے مگر لوگوں نے اس میں تبذیر کی تو اسکا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔اﷲ تعالیٰ نے دینے میں کسی سے بُخل نہیں کیا۔بلکہ اس کے غلط استعمال نے تنگی پیدا کر دی۔(رعد:۱۲) سے مراد نعمت ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۴؍فروری۱۹۱۰ء) ناجائز طور پر مالوں کو ضائع کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان تو ایسا ہے کہ جس نے اسے پیدا کیا اور جس نے اس کو پرورش کیا اسکا بھی منکر ہو گیا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۵۹) دنیا کے ہر کاروبار میں اس قسم کے امتحان اور مشکلات پیش آتے ہیں۔ایک طرف بیوی بچّوں کیلئے خرچ کی ضرورت ہے۔ادھر قرآن شریف میں پڑھتا ہے۔لَاتُسْرِفُوْا۔(انعام:۱۴۲ اعراف:۳۲)اور اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْآ اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ اور ایک طرف دین۔مال و عزّت اور جان خرچ کرانی چاہتا ہے۔اسی وقت اپنے اندرونہ کا معائنہ کرے اور اپنے فعل سے دکھائے کہ کیا دین کو مقدم کرتا ہے یا دنیا کو۔(الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۶) ۳۰،۳۱۔