حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 529
او مخاطب! تیرے مربّی اور مُحسن پالنے والے کا حکم تو یہ ہے۔کہ اس کے سوا کسی کی پرستش اور فرماں برداری نہ کی جاوے اور ماں باپ سے پورا نیک سلوک ہو۔اگر اومخاطب! تیرے جیتے ہوئے والدین بوڑھے ہو جاویں۔ایک یا دونوں۔تو خبردار کبھی ان سے کسی قسم کی کراہت نہ کر بیٹھو اور نہ کبھی ان کو جھڑ کو اور ان سے پیاری میٹھی نرم ادب کی باتیں کیا کرنا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۵۸) : اس کے معنے ہیں کہ حکم شرعی کیا ہے تیرے ربّ نے۔اِلَّا اﷲ : یہی ایک مسئلہ ہے۔جس کیلئے انبیاء دنیا میں آئے۔مَیں جب اذان سُنتا ہوں تو مجھے یقین پڑتا ہے۔کہ اسلام کی یہی جامع تعلیم ہے۔مگر افسوس کہ جس چیز کارواج پڑ جاتا ہے۔اس کی قدر بہت کم رہ جاتی ہے۔اسی طرح لآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ۔اور کلمہ شہادت ان کے معانی پر غور و تدبّر کرنا ضروری ہے۔مگر مسلمان بہت کم توجہ رکھتے ہیں۔صوفیائے کرام نے اس کلمہ پر بہت زور دیا ہے اور اسکی تعلیم تفہیم میں بہت کوشش کی ہے اس پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔: ماں باپ ایک تربیت کے متعلق ہی جس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں اگر اس پر غور کیا جائے تو بچے پَیر دھو دھو کر پئیں۔میں نے چودہ بچوں کا بلا واسطہ باپ بن کر دیکھا ہے کہ بچّوں کی ذرا سی تکلیف سے والدین کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ان کے احسانات کے شکریہ میں ان کے حق میں دُعا کرو۔میں اپنے والدین کیلئے دعا کرنے سے کبھی نہیں تھکا۔کوئی ایسا جنازہ نہیں پڑھا ہو گا جس میں ان کیلئے دُعا نہ کی ہو۔جس قدر بچّہ نیک بنے ماں باپ کو راحت پہنچتی ہے اور وہ اسی دنیا میں بہشتی زندگی بسر کرتے ہیں۔: اسقدر انکی مدارت رکھو کہ اُف کا لفظ بھی مُنہ سے نہ نکلے چہ جائیکہ کہ ان کو جھڑکو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۴؍فروری۱۹۱۰ء) قرآن کریم فرماتا ہے کہ ماں باپ مشرک بھی ہوں تب بھی انکی رعایت و اطاعت ملحوظ رکھو۔اور رَبَّیَانِیژ صَغِیْرًا ثبوت دیا ہے۔(بدر ۱۰؍اکتوبر ۱۹۱۳ء)