حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 51

 بہت ملک ہیں جہاں مسلمان رہتے ہیں۔جیسے یا غستان۔بعض حصص افغانستان۔سرحدی ملک عرب۔روم۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی مومن کسی مومن کو دُکھ نہیں دیتا۔لیکن جہاں مسلمانوں کے قبضے میں تلوار ہے جیسے مذکورہ بالا ممالک میں۔وہاں تلواریں چلاتے ہیں۔جہاں تلوار پر قبضہ نہیں وہاں لَٹھ ہاتھ وغیرہ چلاتے ہیں۔ہاتھ نہ چلے تو زبان ہی چلاتے ہیں۔ہر قسم کی گالیاں ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔عورتوں کا بس نہ چلے تو اپنی اولاد کو ہی کوستی ہیں۔یہاں فرماتا ہے کہ مومن قتلِ عمد تو کرتا ہی نہیں۔اگر خطا ہو تو غلام آزاد کرے۔دیت ہے جو دس بارہ ہزار ہو جاتی ہے۔دو مہینے کے روزے رکھے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء) ۹۴۔ : تین گناہ کئے ہیں ۱۔جناب الہٰی کا حکم توڑا۔۲۔اس کے منافع سے محروم کیا ۳۔اس کی زندگی برباد کی۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۹) : غضب خود ایک جہنم ہے۔غضب کرنیوالوں کا دل کمزور ہو جاتا ہے۔اختلاجِ قلب میں گرفتار رہتے ہیں۔خُدا نے جھگڑوں کی ایک جڑ بتائی ہے۔ (المائدۃ:۱۵)جب لوگ نصائح کو بھُول گئے تو ان میں عداوت اور بغضاء شروع ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء) ۹۵۔