حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 526
: حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا وجود جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں۔سارے جہان کیلئے رحمت تھا۔اس سورۂ کریمہ میں اﷲ نے یہود کو سمجھایا ہے۔کہ دو وقت تم پر خطرناک آ چکے ہیں۔ایک جب داؤد کی لعنت تم پر پڑی۔اور بابلیوں کے قبضے میں تم گرفتار ہوئے دوسرے حضرت عیسٰیؑ کی لعنت تم پر پڑی۔اُن کے بڑے عظیم الشان مقابلہ کا بد انجام طیطسؔ کے زمانے میں ایسا خطرناک ہوا کہ تمہاری عظمتیں خاک میں مِلا دی گئیں۔مَیں نے تمہیں بتلایا ہے کہ (یوسف:۱۱۲) ایک مسلمان کی چپّہ بھر زمین جائے تو اس کیلئے کیسا مضطرب ہوتا ہے۔پھر تم یاد کرو کہ مسلمانوں کا کتنا ملک تھا۔مگر بدعملیوں کی وجہ سے دوبارہ ان پر بھی ایسا ہی وقت آیا۔فرماتا ہے کہ انسان بدی کو بھی پکارتا ہے۔یعنی اپنی بدعملی کی وجہ سے گویا اپنے لئے دُکھ مانگتا ہے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ اپنے یا اپنے اقرباء کے حق میں بد دعا کر لیتا ہے۔جیسے ہمارے ملک میں مائیں اپنی اولاد کو گالیاں بد دعا کے رنگ میں دیتی رہتی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۴؍فروری۱۹۱۰ء) ۱۳۔ : عرب غموں اور دُکھوں کو رات سے تعبیر کرتے۔سمجھاتا ہے کہ وُہ دُکھ درد کی رات دُور بھی کر دیتا ہے۔جلد بازی سے گھبرا کر بد دعائیں نہیں مانگ لینی چاہئیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۴؍فروری۱۹۱۰ء) : ایک زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ اﷲ بہت چشم پوشی فرماتا ہے۔جو رات