حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 514
: یہ دن طبور نمؤنہ قیامت دنیا میں بھی آتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر بھی آیا ہے۔خود ہم پر بھی۔کوئی کسی کے ساتھ محبّت کرے یا بُغض۔بمنزلہ بیج کے ہے جو اپنے وقت پر پھل لاتا ہے۔صاحبِ زراعت جس قسم کے بیج بوئے ضرور اس کے مطابق کاٹتا ہے۔اس میں مکّہ والوں کو سمجھایا کہ تم کب تک نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے اور آپؐ کے اتباع کو دُکھ دو گے۔ایک وقت اس کا خمیازہ اٹھانا پڑیگا نبیوں کی ذات بڑی رحیم ہوتی ہے مگر نَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْ غَضَبِ الْحَلِیْ مِنبی پر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بول اٹھتا ہیلَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا (نوح:۲۷)اور پکارتا ہے وَ اشْدُوْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَلَا یُؤمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابُ الْاَلِیْمَ (یونس:۸۹)کہ مَیں ان کا ایمان بھی اب نہیں دیکھنا چاہتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) تُوَفّٰی: یہ اور باب سے ہے اور تَوَفَّیْتَنِیْ اور باب سے۔یاد رکھو۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۳) ۱۱۳۔ : خود مکّہ ہی سمجھ لو جس میں ہر طرح امن و اطمینان تھا۔چنانچہ عورت جب اپنے خاوند سے سُکھ پاتی تو کہتیزَوْجِیْ کَلَیْلِ تِھَامَۃَ لَا مَخَافَۃ و لَا سَآمَّۃَ لَاحَرَّ وَلَاقَرَّ۔(ترجمہ: میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح پُر سکون ہے نہ خوف۔نہ تنگی۔نہ گرمی کی شدّت نہ سردی کی۔ناقل) : ادھر شام۔اُدھر افریقہ تک سے تجارت کرتے۔پھر پجاری لوگ آتے وہ روپیہ لاتے۔حکومت کا معاوضہ الگ ملتا۔: ایک جگہ فرمایا ہے۔بَدَّلُوْا نِعْمَۃَ اﷲِ کُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَھُمْ دَارَالْبَوَارِ(ابراہیم:۲۹)یہ آیت اس کی تفصیل فرماتی ہے۔