حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 512
مراد آیتِ قرآنیہ لیتے ہیں۔پھر دوم اس مبدّل و منسوخ آیت کو موجود فی القرآن ہونے کا ثبوت ان کو دینا پڑتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) : ایک نشان مِٹا کر دوسرا قائم کرنا چاہتے ہیں۔بُت پرستی کی بجائے توحید۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۳) ۱۰۴۔ : ایک کتاب مَیں نے عیسائیوں کی پڑھی ہوئی ہے۔اور ہماری پرانی روایتوں میں بلعام۔یاسر۔یسار۔جبیر ایسے ایسے نام لئے گئے ہیں کہ ان کے اقوال سے گویا قران کریم کا استنباط کیا ہے۔ایسی باتوں کا جواب ایک تو یہ ہے کہ وہ تو غلام تھے تم آقا ہو۔تم بھی قرآنِ مجید کی کسی خوبی کا معارضہ کر سکتے ہو اور ان غلاموں سے کیا سیکھتا تھا۔جبکہ معترضین کے مذاہب کے اصل الاصول کفّارہ و تثلیت کی تردید کی ہے۔ایک کے بارہ میں فرمایا۔لَقَدْکَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اﷲَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ (المآئدہ:۷۴)اور دوسرے کی نسبت ارشاد کیا۔لَاتَزِرُوَا زبرَۃٌ وبّزْرَ اُخْرٰی (بنی اسرائیل:۱۶)پس قرآنِ شریف اگر کسی یہودی یا عیسائی کا سکھایا ہوا ہے تو وہ خاص اپنے مذہب کی اس قدر سخت تردید کیونکر گوارا کرتا ہے پھر اب تو اس زمانہ سے بڑھ کر سامان موجود ہیں۔اب ہی قرآن شریف کا مقابلہ کر دکھاؤ۔جیسا مدلّل بیان اس قرآن مجید میں ہے وہ تورات و انجیل میں مطلق نہیں۔پس اس کا استنباط کیسے ہو سکتا ہے۔: یہ زبان جو گوشت کی ہے۔اس کو بھی لسان کہتے ہیں۔لیکن جو بات اس کے ذریعے کی جاوے اسے بھی لسان ہی کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۱۰۵۔