حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 505 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 505

چاہتے ہیں۔تو ہم کو چاہیئے کہ جس کے ہم ماتحت ہوں۔اسکے فرماں بردار ہوں۔کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ ہمارا مال کوئی شخص دھوکہ سے کھا لے؟ ہم یہ ہرگز پسند نہیں کرتے کہ کوئی ہم کو دھوکہ دے یا ہم کسی کا دھوکہ کھائیں۔اس لئے ہم کو بھی چاہیئے کہ کسی کو دھوکہ نہ دیں۔جہاں کسی کے دھوکہ کھانے کا موقعہ ہو۔وہاں اپنے آپ کو بچائیں۔ ۔اﷲ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے۔جو بات تم کو اپنے لئے پسند نہیں۔دوسروں کیلئے کیوں پسند کرتے ہو وہ تم کو برائیوں سے روکتا ہے اور ہر قسم کی بغاوت سے روکتا ہے۔تم کو وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔(البدر ۶؍مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ۸) عدل ایک صفت ہے اور بہت بڑی عجیب صفت ہے۔عدل ہر شخص کو پیارا لگتا ہے اور بہت پیارا لگتا ہے۔عادل ہر ایک شخص کو پسند ہے اور بہت پسند ہے۔کان رس کے طور پر بھی عدل کا لفظ پیار ا ہے اپنی ذات کے متعلق بھی جب آدمی کی ضرورت پڑے۔اسے عدل بہت پیارا لگتا ہے۔مگر نہایت تعجّب ہے باوجود اس کے عدل نہایت پسندیدہ چیز ہے۔جب دوسرے کیساتھ معاملہ پڑے تو انسان عدل بھول جاتا ہے۔عجائبات جو میں نے دنیا میں دیکھے ہیں۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض لوگ اﷲ کو بھی مانتے ہیں اور پھر پتھر کے بُت۔پانی کے دریا۔پیپل اور بَڑ کے درخت۔جانوروں میں سانپ اور گائے کی پرستش کرتے ہیں مجھے بڑا تعجّب آتا ہے کہ اتنی بڑی عظیم الشان ذات کو چھوڑ کر ادنیٰ چیز کو کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اسی طرح عدل کے معاملہ میں بھی (کئی دفعہ تعجّب مجھے دنیا میں ہوا ہے) ایک تعجب ہے کہ انسان عدل کو اپنے لئے اپنے دوستوں کیلئے۔اپنے خویش و اقارب کیلئے بہت پسند کرتا ہے۔مگر جب دوسرے کے ساتھ معاملہ پیش آئے۔پھر عدل کوئی نہیں۔کسی کا بھائی باوا یا بہن یا ماں یا بیٹی مقدمہ میں گرفتار ہو جائے تو وہ کہتا ہے اس سے بڑھ کر میرا کون ہے ان کے چھُڑانے کی کوشش میں اگر میری جان بھی جائے تو کوئی بڑی بات نہیں اس وقت بعض لوگ جعلسازی۔رشوت دینے تک تیار ہو جاتے ہیں۔گویا خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر یہ کام کرتے ہیں۔مگر سوچو جس نے ایسا کیا اس نے عدل نہیں کیا۔کیونکہ وہ ہمارا رحمان۔ہمارا رحیم۔ہمارا مالک ہمارا رازق۔ہمارا ستّار العیوب ہے۔اس کی صفات کو چھوڑ کر کہتا ہے۔پس جو کچھ ہے۔میرا یہی بیٹا ہے۔یا بیوی ہے یا ماں ہے۔دیکھو وہی عدل جو بڑا پسند تھا۔اس وقت بھلا دیا۔یہاں دو لڑکوں میں ایک گیند کا مقّدمہ ہوا۔دونوں مجھے عزیز تھے۔اب میں حیران ہوا کہ کس کو دلاؤں۔میرے پاس پیسے ہوتے تو مَیں مدّعی کو گیند لے دیتا۔مگر قدرت کے عجائبات ہیں کہ بعض اوقات نہیں ہوتے۔ایک نے