حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 501
کا ہے۔ایک عدل و انصاف بندوں کے ساتھ ہے۔دیکھو ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہم سے دَغا فریب کرے یا ہمارا نوکر ہو۔تو وہ ہماری خلاف ورزی کرے۔پس ہم کو بھی لازم ہے کہ اگرہم کسی کے ساتھ خادمانہ تعلق رکھتے ہیں تو اپنے مخدوم و محسن کی خلاف ورزی نہ کریں۔اپنے فرائض منصبی کو ادا کریں اور کسی سے کسی قسم کا مکر و فریب اور دغا نہ کریں۔یہی عدل ہے ع ہرچہ برخود نہ پسندی بر دیگراں مپسند یہ عدل باہم مخلوق کے ساتھ ہے اور پھر جیسے ہم اپنے محسنوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔اسی طرح اﷲ تعالیٰ کے ساتھ جو مُحسنوں کا مُحسن اور مربّیوں کا مربّی اور ربّ العالمین ہے۔اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں عدل کو ملحوظ رکھیں۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اسکا نِدّاور مقابل تجویز نہ کریں۔اس کے بعد دوسرا حکم احسان کا ہے۔مخلوق کے ساتھ یہ کہ نیکی کے بدلہ نیکی کرتے ۱؎ پوری آیت۔مرتّب ہیں۔اس سے بڑھ کر سلوک کریں۔اﷲ تعالیٰ کے ساتھ احسان یہ ہے کہ عبادت کے وقت ہماری یہ حالت ہو کہ ہم گویا اﷲ تعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور اگر اس مقام تک نہ پہنچے تو یقین ہو کہ وہ ہم کو دیکھتا ہے۔پھر تیسرا حکم کا ہے۔ذی القربیٰ کے ساتھ تعلق اور سلوک انسان کا فطری کام ہے۔جیسے ماں باپ بھائی بہن کیلئے اپنے دل میں جوش پاتا ہے۔اسی طرح اﷲ کی فرماں برداری میں متوالا ہو۔کوئی غرض مدّنظر نہ ہو۔گویا محبّت ذاتی کے طور پر اﷲ تعالیٰ کی فرماں برداری ہو۔پھر چوتھا حکم یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ منع کرتا ہے ہر قسم کی بیحیائیوں۔نافرمانیوں اور دوسرے کو دُکھ دینے والی باتوں اور ان بغاوتوں سے جو اﷲ جلّ شانہٗ یا حکام یا بزرگوں سے ہوں۔اور آخر میں یہ ہے ۔اﷲ تعالیٰ تمہیں وعظ کرتا ہے۔غرض منشاء الہٰی یہ ہے کہ تم اس کو یاد رکھو۔دو قسم کے واعظ ہوتے ہیں اور دو ہی قسم کے سُننے والے۔واعظ کی دو قسمیں تو یہ ہیں کہ کچھ پیسے مل جاویں اور یا مدح سرائی ہو کہ عمدہ بولنے والا ہے۔خدا کا شُکر ہے کہ تمہارے واعظ میں یہ دونوں باتیں نہیں بلکہ وہ محض نصحؔ کیلئے کہتا ہے۔جو کہتا ہے اور سننے والوں میں سے ایک قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کو اس وقت کچھ مزہ آتا ہے اور پھر یاد کچھ نہیں رہتا۔دوسرے بالکل کورے کارے ہوتے ہیں۔پس تم اسی قسم کے سننے والے نہ بنو۔بلکہ وعظ کی اس غرض کو ملحوظ رکھو ۔اﷲ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔آمین۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳) عدل ایسی ضروری چیز ہے کہ شیعہ نے بھی باوجود اﷲ کی تمام صفات سے بے پرواہی کرنے کے