حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 497
۷۹۔ : کچھ بھی نہ جانتے تھے۔یہ بھی خبر نہ تھی کہ گونگا ہے یا بولنے والا چہ جائیکہ اے۔بی۔سی یا ا۔ب۔ت پڑھتے ہوئے عالم فاضل ہو جاؤ گے۔: معلوم ہوا کہ سب سے پہلے کان ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مولود کے کان میں اذان دینا سنّتِ نبویؐ ہے۔چاہیئے کہ سب سے پہلے یہی کام کیا جاوے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو حسبِ ارشادِ الہٰی علوم سے عاری ہوتا ہے۔۔جیسا فرمایا وَ اﷲُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا اوراﷲ نے تمہیں نکالا ماؤ ںکے اندر سے اور تمہیں کسی چیز کا علم نہ تھا۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ۱۳ دیباچہ) انسان پیدائش میں تعلیم یافتہ نہیں ہوا کرتا۔قرآن میں ہے۔وَ اﷲُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا۔اور سچ بھی ہے کیونکہ ابتداء انسان کی اسی طرح ہوئی ہے۔عناصر کی ترکیب سے نباتات ہوئے۔نباتات اور عناصر کی ترکیب سے حیوانات۔اور ان دونوں قسم نباتات و حیوانات کے استعمال اور عناصر سے انسانی خون ہوا۔اس سے نطفہ بنا اور اس سے انسان بنتا ہے۔دیکھو کس طرح تدریجی ترقی پر انسان آتا ہے۔کہاں کا پتّر جنم؟ آخر آدمی پیدا ہوتا ہے۔کھانا۔پینا۔پہننا۔سونا۔جاگنا ہنسنا۔رونا۔محبّت اور غضب یہی اس کے ابتدائی کام ہوتے ہیں۔جب بڑھا۔عام حیوانات سے ترقی کرنے لگا۔کھانے میں پینے میں۔پہننے میں۔سونے جانگنے۔ہنسنے رونے۔محبّت اور غضب میں اس نے اصلاح شروع کی اور انکو اعتدال پر لانے لگا۔بدیوں پر اور ان کے ارتکاب پر اندر ہی اندر بلکہ عملاً بھی اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے۔اور اگر ایسے لوگ اس کے اردگرد ہوں جنہوں نے اپنے اس مرتبہ میں اپنی فطرت و وجدان نورِ معرفت اور نورِ ایمان کو قتل کر دیا ہے تو انکی حالت مستثنٰی ہے۔