حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 496 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 496

تک خراب ہو چکی تھی۔کہ عظمت الہٰی اور شفقت علی خلق اﷲ کا نام و نشان تک نہ پایا جاتا تھا۔اور دنیوی ڈھکوسلے والوں کی حالت بھی بگڑ چکی تھی۔اسی حالت میں اﷲتعالیٰ مکّہ والوں کو آگاہ کرتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ تم اَبْکَمْہوصنادید مکّہ میں سے ابوجہل ہی کو دیکھ لو۔اس کے افعال و اعمال اس کے اخلاق صاف طور پر بتاتے ہیں کہ وہ دُنیا کے لئے ہرگز ہرگز خیر و برکت کا موجب نہیں۔یہ صرف صرف اسی پاک ذات کیلئے سزاوار ہے کہ وہ دنیا کی اصلاح اور فلاح کیلئے مامور ہوا۔جس کا پاک نام ہی ہے محمّد و احمد صلی اﷲ علیہ وسلم۔جس نے اپنی پاک تعلیم۔اپنی مقدس و مطئہر زندگی اور بے عیب چال چلن اور پھر اپنے طرزِ عمل اور نتائج سے دکھا دیا کہ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اﷲُ مَیں اپنے اﷲ کا محبوب ہوں۔تو اگر اس کے محبوب بننا چاہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اتباع کرو۔(الحکم ۳۱؍مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ۳ تا صفحہ۶) فرمایا۔دو قسم کے غلام ہوتے ہیں۔اَحَدُ ھُمَا اَبْکُمْ لَا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ وَ ھُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلَاہُ اَیْنَمَا یُوَجّھْہُّ لَایَاتِ بِخَیْرٍ۔گونگا۔کسی چیز پر قادر نہیں۔جہاں جائے کوئی خیر نہ لائے۔دومؔ وہ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَھُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ عدل پر چلتا اور عدل کا حکم کرتا ہے اور صراطِ مستقیم پر ہے۔اب ان میں سے وہی پسند ہو گا۔جو مولیٰ کا خدمت گزار ہو گا۔(الفضل ۱۷؍ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵) ۷۸۔  : اﷲ تعالیٰ سمجھاتا ہے کہ مکّہ میں تم سب لوگ اکٹھے ہی رہتے تھے۔ان میں سے ایک کو خاتم الانبیاء و سیّد الاولین و الآخرین بنا دیا۔یہ کس کو معلوم تھا۔: بڑے بڑے بدکار ایک دم میں نیکو کار ہو جاتے ہیں اور نیک بد۔امیر فقیر اور غریب امیر۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء)