حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 495 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 495

کیا عرب گونگے تھے؟ سبعہ معلّقہ کو اور امراء القیس کے قصیدہ کو دیکھو۔جو بیت اﷲ کے دروازہ پر آویزاں کیا گیا تھا۔زید بن عمر اور اسکے ہم عصر اعلیٰ درجہ کے خطیب موجود تھے۔ان لوگوں میں جب کبھی اس بات پر منازعت ہوئی تھی بڑے دنگل لگتے تھے۔جس کی بات کو مکّہ کے قریش پسند کرتے۔وہ جیت جاتا۔ان کی زبان عرب تھی۔دوسروں کو عجم کہتے تھے۔اپنے آپ کو فصاحت میں بے نظیر سمجھتے تھے۔پھر اس پر کیا۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اَبْکَمْ ہے۔اپنی معشوقہ اور عشیقہ کے خط و خال۔بہادری اور شجاعت کے کارنامے۔چستی و چالاکی۔ہر قسم کے مضمون پر بڑی فصاحت سے گفتگو کر سکتے تھے۔اور تحمّل مزاج کے ثبوت دیتے تھے۔مگر ہاں وہ اَبْکَمْ تھے تو اس بات میں تھے کہ اﷲ تعالیٰ کے محامد اﷲ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا انہیں کچھ علم نہ تھا۔اور وہ اس کی بابت ایک لفظ بھی مُنہ سے نہ بول سکتے تھے۔اﷲ تعالیٰ کے افعال کی بے نظیری بیان کرنے کی مقدرت ان میں نہ تھی۔وہ عرب کہلاتے تھے مگر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ جیسا اعلیٰ درجہ کا فصیح و بلیغ کلمہ ان میں نہ تھا۔وحشیوں سے انسان اور انسان سے با اخلاق انسان پھر باخدا انسان بننے کیلئے ان مراتب کے بیان کرنے کو آہ! ان میں ایک لفظ بھی نہ تھا۔اخلاقِ فاضلہ اور ذائل کو وہ بیان نہ کر سکتے تھے۔شراب کا تو ہزار نام ان میں موجود تھا۔مگر افسوس اور پھر افسوس اگر کوئی لفظ اور نام نہ تھا تو اﷲ تعالیٰ کے اسماء اور توحید کے اظہار کے واسطے۔پھر یوں سمجھو کہ اُن میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ نہ تھا۔وہ اپنی سطوت اور جبروت دکھاتے۔ایک پلّے (کتّی کے بچّے) کے مر جانے پر خون کی ندیاں بہا دینے والے اور قبیلوں کی صفائی کر دینے والے تھے۔مگر اﷲ تعالیٰ کا بول بالا کرنے کے واسطے ان میں اس وقت تک سکت نہ تھی۔جب تک کہ پاک روح مطہر و مزکّی معلم جناب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان میں ظہور فرمایا۔یہ وہ وقت تھا جبکہ ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کانقشہ پورے طور پر کھینچا گیا تھا۔سماوی مذاہب جو کہلاتے تھے اور خدا تعالیٰ کی کتابوں کے پڑھنے کا دعوٰی کرتے تھے باوجود اس کے کہ اپنے آپ کو مقرّبانِ بارگاہِ الہٰی کہتے۔نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اﷲِ وَ اَحِبَّاؤُہٗ۔مگر حالت یہاں