حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 494 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 494

رسانی کر سکے۔لیکن جبکہ وہ اَبْکَمْ ہے۔کچھ بول ہی نہیں سکتا۔بھلا وہ اس منصب کے فرائض کو کیونکر سر انجام دے گا؟ غلام مت سمجھو۔رَجُلَیْنِ ہیں۔یعنی حُرّ ہیں۔آدمؑ سے لیکر اس وقت تک ان پر کسی نے سلطنت نہیں کی اس لئے اس میں ترقی فرمائی ہے۔اس سے پہلے عَبْد کہا۔اب رَجُلَیْنِ۔اس سے میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ حرّوں میں۔عربوں میں۔تاریخ پتہ نہیں دیتی کہ وہ کبھی کسی کی رعایا رہے ہوں۔انہوں نے کبھی کسی کے تسلّط اور جبروت کو پسند نہیں کیا۔اور یہاں تک آزاد ہیں کہ بذریعہ انتخاب یہی کل جزیرہ نما عرب پر ایک شخص حاکم ہو کر نہیں رہا۔اب ان میں سے ہم پوچھتے ہیں کہ اس وقت جو بحرو برّ میں فساد برپا ہو رہا ہے۔اور دنیا میں بت پرستی فسق و فجور۔ہر قسم کی شرارت اور بغاوت پھیل رہی ہے۔کوئی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی گم شدہ توحید کو از سرِ نَو زندہ کرے اور مَری ہوئی دنیا کو زندہ کر کے دکھاوے؟ اﷲ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اس کے جلا و سطوت کو کھول کر سُنا دے؟ وہ جواَبْکَمْ اَلْکَنْ ہیں وہ کیا بتا سکیں گے۔کیا تم نہیں جانتے کہ اَبْکَمْ نوکرتو اپنے آقا پر بھی دو بھر ہوتا ہے۔اس کو کھانا کھلانا اور ضروریات کے سامان کا تکفل کرنا خود مالک کو ایک بوجھ معلوم ہوتا ہے اور پھر جہاں جاتا ہے کہ کوئی خیر کی خبر نہیں لا سکتا۔اب پھر تم اپنی فطرت سے پوچھو۔ھَلْ یَسْتَوِیْ ھُوَ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ ھُوَ عَلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمَ کیا اس کے برابر یہ ہو سکتا ہے جو امر بالعدل کرتا ہے۔اور جو کچھ کہتا ہے اپنی عملی حالت سے اس کو دکھاتا ہے کہ وہ صراطِ مستقیم پر ہے۔اس وقت جو دنیا میں افراط و تفریط بڑھ گئی ہے۔دنیا کو اعتدال کو راہ بتانے والا اور اقرب راہ پر چل کر دکھانے والا اور اپنی کامیابی سے اس پر مُہر کر دینے والا کہ یہی صراطِ مستقیم ہے۔جس پر مَیں چلتا ہوں۔اب انسان اگر دانشمند اور سلیم الفطرت ہو تو اس کو صفائی کے ساتھ مسئلہ نبوّت کی ضرورت کی حقیقت سمجھ میں آ جاتی ہے۔میں نے ایک بار اس آیت پر تدبّر کیا تو مجھے خیال آیا کہ اگر مولویوں کی طرح کہیں۔تو