حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 493 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 493

کا استعمال کر کے انکو تندرست بنا کر دکھا دیا کہ یہ دعوٰی کہ وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَاھُوَ شِفَآئٌ (بنی اسرائیل:۸۳)بالکل سچّا دعوٰی ہے۔اس وقت کی عام حالت پر نظر رکھو تو معلوم ہو گا کہ دنیا میں ایک بلاخیزطوفان بُت پرستی اور شرک کا آ رہا تھا۔کوئی قومٗ کوئی ملکٗ کوئی خاندان ٗ کوئی ملّت ایسی نہ رہی تھی جو اس ناپاکی میں مبتلا نہ ہو۔کیا ہند میں عالم نہ تھے؟مجوسیوں کے پاس گھر اور دستور آگاہ نہ تھے؟یہود کے پاس بائیبل اور طالمود نہ تھی ؟ عیسائیوں کی روما کی سلطنت نہ تھی؟ مصریوں کے ہاں علم کا دریا نہ بہتا تھا۔کیا خاص عرب میں بڑے بڑے طلیق اللسان اور فصیح البیان شعراء موجود نہ تھے ؟ مگر قوم کی امراض نہیں۔بلکہ ملک کی بیماریوں۔نہیں نہیں۔دنیا کو تباہ کر دینے والی بلا کی کس نے تشخیص کی۔وہ کون تھا جس نے شفاء اور نور کہلانے والی کتاب دنیا کو دلوائی؟ جواب آسان اور بہت آسان ہے۔بشرطیکہ انصاف اور سچائی سے محبت ہو کہ وہ پاک ذات محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات تھی۔اس آیت پر غور کرنے سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی اصطلاح میں رزق اور مال سے کیا مُراد ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ جیسے اس زمانہ میں مولوی اور درویش کاہل اور سُست اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی ان کو پکی پکائی روٹی دے جاوے۔اسی طرح مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئیں گے تو لا تعداد زر و مال تقسیم کریں گے اور اس طرح پر گویا قوم کو سُست اور بے دست و پا بنائیں گے اور قرآن نے جو اشارہ فرمایا تھا وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّامَاسَعٰی (النجم:۴۰)اور حصر کے کلمہ کے ساتھ فرمایا تھا اس کو عملی طور پر منسوخ کر دیں گے۔اس میں جو حصر کے کلمے کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کیا یہ حکم منسوخ ہو جاوے گا۔اور جناب مہدی کا یہی کام ہو گا؟ سوچو اور غور کرو۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ رزق کے کیا معنے ہیں اس کے بعد جناب الہٰی ایک دوسری شہادت سناتے ہیں اور اس مثال میں اَبْکَمْ کا لفظ اختیارفرمایا ہے۔پہلیاَبْکَمْ نہ تھا۔اس لئے کہ ہم کو غرض ہے کسی ایسے آدمی کی جو پیغام