حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 492 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 492

جاوے۔وہاں کھلے طور پر دیتا ہے۔غرض وہ مالک کی مرضي اور منشاء کا خوب علم رکھتا ہے اور اس کے ہی مطابق عملدر آمد کرتا ہے۔اور مخفی در مخفی اور ظاہر در ظاہر موقعوں پر ہی جہاں مالک کی مصلحت ہوتی ہے۔اس مال کو خرچ کرتا ہے۔اب تم اپنی فطرتوں سے پوچھور کہ یہ دو غلام ہیں۔جن میں سے ایک تو ایسا ہے کہ کسی کام کے کرنے کے بھی قابل اور لائق نہیں۔اور دوسرا ہے کہ اپنے مالک کی مرضی اور مصلحت کا پورا علم رکھتا ہے۔اور صرف علم ہی نہیں۔اس پر عمل بھی کرتا۔اور سرًّا اور جہرًا دونوں قسم کے اخراجات کر سکتا ہے۔اب یہ کسی صاف بات ہے۔اپنی ہی فطرت سے پوچھ لو۔ھَلْ یَسْتَوٗنَ ؟کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ہر ایک دانشمند کو اعتراف کرنا پڑے گا۔کیونکہ وہ فطرتِ انسانی اعتقادات۔اخلاق سب کو جانتا ہے۔اس لئے اﷲ تعالیٰ اپنے کامل علم اور فطرت کی صحیح اور کامل واقفیت کی بناء پر فتوٰی دیتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ :اﷲ تعالیٰ کی حمد دنیا میں قائم ہو گی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہی غلام لائق اور ممتازہو سکتا ہے جو ہر قسم کے اخراجات کو بر محل کرنے اور اپنے آقا کے منشاء و مصلحت کو جانتا ہے اور یہی نہیں بلکہ عملی طاقت بھی اعلیٰ درجہ کی رکھتا ہے۔جب یہ بات ہے تو عرب و عجم کی تاریخ پر نظر کرو۔انہیں دنیا کی تاریخ کے ورق اُلٹ ڈالو۔اور دیکھو کہ جس زمانہ میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے دنیا پر جلوہ گری کی۔کیا اس سے بہتر کوئی اور وجود اس قابل تھا کہ وہ دنیا کا معلّم ہو کر آتا ؟ ہرگز نہیں۔لوگوں کو سچّید علوم ملتے ہیں۔اور بابرکت اساتذہ کا اثر بھی ہوتا ہے لیکن یہ بات کہ حق سبحانہٗ تعالیٰ سے سچّا تعلّق پیدا ہو اور اسکے مقرّب ہونے کیلئے اقرب راہ مل جاوے۔یہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے کامل طور پر دنیا میں نہیں ہوا۔زمانہ کے امراض پر پوری نظر کر کے مریضوں کی حالت کی کامل تشخیص کس نے کی تھی؟ کسی کا نام تو لو۔جب معالج ہی نہ تھا تو شفاء کا تو ذکر ہی کیا۔مگر ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم شفاء کامل کا نسخہ لے کر آئے اور مریضوں پر اس