حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 483
الہٰی خلفاء کی اطاعت و انقیاد و فرماں برداری۔سیاست و تمدّن کا اعلیٰ اور ضروری مسئلہ ہے بلکہ ان کی فرماں برداری۔خود الہٰی فرماں برداری ہے۔قرآن میں ہے۔(نساء:۸۱)اور فرمایاکہ(نساء:۶۰)کیا تم نے سنا یا ستیارتھ پرکاش میں نہیں پڑھا جہاں لکھا ہے۔کہ عورتوں کی ہمیشہ پُوجا کرنی چاہیئے۔اگر کوئی معنی پوجا کے کئے جا سکتے ہیں تو سجدہ کے کیوں نہیں کئے جاتے۔آج ایسا اعتراض کرنا اور ایسے شخص کے مُنہ سے ایسا اعتراض نکلنا جو انگریزی پڑھا ہے کس قدر شرم کی بات ہے۔انگریزی زبان میں وَرْشِپْ ۱؎ کا لفظ کس قدر وسیع اور روزمرّہ کی بول چال میں آتا ہے۔حتٰی کہ ججّوں کو ہزْورشِپ۲؎ کہا جاتا ہے۔اس کے معنے سوائے اس کے اور کیا ہیں؟ کہ وُوہ قابلِ اطاعت شخص ہیں۔قرآن میں آیا ہے۔کہ درخت اور چارپائے اور آسمان کی ساری چیزیں خدا کو سجدہ کرتی ہیں۔اور امراء القیس کے شعر میں ہے کہ تمام جنگل ان گھوڑوں کے سُموں کو سجدہ کرتے تھے اب صاف ظاہر ہے کہ وہ سجدہ عرض نہیں جو زمین پر گرِ کر پیشانی کو زمین سے ٹکرا (کر) کرتے ہیں۔:اﷲ کی فرماں برداری کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ (الحج:۱۹)اور اﷲ کی فرماں برداری کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔تو کیا آسمان پر آسمان کی چیزیں اور زمین کی زمین پر گر تی ہیں؟ (نورالدّین طبع سوم صفحہ ۹۹۔۱۰۰) ۵۲۔ : اور فرما دیا اﷲ نے۔: دو معبود بھی نہ بناؤ چہ جائیکہ دو سے زیادہ۔