حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 478 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 478

قرآن نے قاعدہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی خالق نہیں چنانچہ فرمایا۔وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ۔اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآئٍاﷲ کے سوا جو لوگ معبود بنائے گئے ہیں۔ان کے معبود نہ ہو سکنے کا نشان یہ ہے کہ وہ کسی شئے کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں تو خدا کی صفات کے بارے میں قولِ فیصل ہے کہ حقیقی خالق وہی ہے اب لفظ خلق جو وسیع معنی رکھتا ہے۔اگر مخلوق کا فعل اسے کہا جائے گا تو ضرور ہے کہ مخلوق ضعیف کی شان اور حیثیت کے لائق ہو گا۔اس سے سمجھ لو کہ ایک ناتواں انسان مسیح کی گھڑت اور خلق کیسی ہو گی وہ مٹّی ہی رہتی تھی۔زندہ حیوان نہ تھی۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۱۷۶) ۲۳۔ جب انسان مطالعہ کرتا ہے۔نعمتیں دی ہوئی کس کی؟ اور کس کے ذریعے سے ہم متمتّع ہو سکتے ہیں؟ اور ان نعمتوں کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ اور ان نعمتوں کے کفران پر سزا دینے والا کون ہے؟ اَتٰی اَمْرُ اﷲِ کہنے والا کون ہے؟ تو اﷲ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان بڑھتا ہے۔: اعلیٰ درجہ کی محبّت۔اعلیٰ درجہ کی اطاعت۔اعلیٰ درجہ کا تذلّل۔ان باتوں کی مستحق ایک ہی ذات ہے۔تعجب ہے کہ لوگوں نے انسانوں میں سے ہی معبود بنا لئے۔مگر ایسے معبود بڑی بڑی سخت مصائب میں گرفتار ہوئے۔تاکہ ان کی بشریت واضح ہو جاوے۔امام حسین رضی اﷲ عنہ مسیح ابنِ مریم علیہ السلام۔رام چندرجی۔مگر سب پر سخت مصبتیں پڑیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء)