حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 46
وہ قرآن ہی کو پیش کرتا ہے اور باوجود اس قدر زمانہ گزرنے کے قرآنی مذہب میں کوئی اختلاف نہیں۔بعضوں کا یہ خیال ہے کہ پچّاس برس کے بعد مجدّد آتا ہے مگر میرا مذہب یہ ہے کہ ہر وقت ایک قوم خادمِ قرآن خادمِ حق اور صدق ضرور موجود رہتی ہے۔اس تمام (بات)کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کا ابتداء اور انتہاء ایک ہی طرز پر ہے۔جاہلوں اور عالموں سے یہ ایک نئی آواز سے بولتا ہے۔بڑے بڑے محقّق باوجود بڑی بڑی کوشش کے قرآن کے برخلاف کوئی بات ثابت نہیں کر سکے اور یہ کہ قرآن محفوظ ہے۔اسکا مذہب محفوظ ہے۔اس کے اصل میں کوئی اختلاف نہیں ہوا۔پنجمؔ ایک اَور بات ہے وہ بھی اختلاف میں نہیں ہوا۔جیسی پیشگوئیاں کی گئی تھیں۔ویسی پوری ہوئیں۔رسول اﷲ علیہ وسلم لڑائی کے وقت اپنی بیویوں اور لڑکیوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے لیکن کوئی بھی کسی وقت انکو پکڑ نہ سکا۔اور رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم نے اپنے دشمنوں کو غلام بنایا۔پھر آزاد کیا۔بعض لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم کے تلوار پکڑنے پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ انکی بڑی بیوقوفی ہے۔ہم پُوچھتے ہیں کہ کیا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم کے بالمقابل عرب کے پاس تلوار نہ تھی۔اعتراض توتب ہو تاکہ ان کے پاس تلوار نہ ہوئی اور اہل اسلام پھر ان پر تلوارچلاتے۔جب مقابلہ پر بھی تلوار ہے تو پھر اعتراض کسی بات کا علاوہ ازیں مسلمان تو قانون کے پابند تھے انکو حکم تھا کہ عورتیں اور بچے اور بوڑھے قتل نہ کئے جائیں۔پھلدار درخت نہ جلائے جاویں لیکن مخالف تو کسی ایسے قانون کے پابند نہ تھے۔(البدرؔ ۲؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶۵) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم کا لشکر محدود تھا اور عرب بیشمار مقابلہ پر تھے۔اب بھی اس کی نظیر موجود ہے کہ حضرت مرزا صاحب اکیلے اور انکے مقابلہ پر بڑے بڑے ادیب۔شاعر اور عالم موجود ہیں اور کوئی مقابلہ پر عربی کی کتاب نہیں لکھ سکتا۔پھر ایک بات یہ بھی بڑے مزے کی بھی کہ جب کوئی دشمن مقابلہ کیلئے جاتا۔اس کے بعد ہی جلد اسلام قبول کر لیتا۔اور فوج کا سپہ سالار بنا دیا جاتا غرضیکہ نصرت اور تائید کے جو وعدے اﷲ تعالیٰ کے آنحضرتؐ اور مومنوں کے ساتھ تھے ان میں بھی کوئی تخلّف نہیں ہوا اور یہ سب باتیں قرآن کے منجانب اﷲ ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ردّ شیعہ۔اس آیت میں بھی شیعوں کے خیالات کی تردید ہوتی ہے۔قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ ہم نے سب مومنوں کو بھائی بھائی بنا دیا اور انکے دِلوں میں کوئی کینہ اور حسد وغیرہ نہیں ہے۔قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ ہم نے سب مومنوں کو بھائی بھائی بنا دیا اور انکے دِلوں میں کوئی کینہ اور حسد وغیرہ نہیں ہے۔پس اگر حضرت عمرؓ اور علیؓ میں اخلاص۔اتفاق اور باہمی محبّت نہ تھی تو پھر قرآن کے(خلاف) ہوا۔مگر انکا یہ خیال غلط ہے۔دیکھو